ہم نے اُتارے ہیں اورمراداس سے کوئی اور رکھی گئی ہے تو اسؔ سے ظاہر ہے کہ عادت اللہ اسی طرح پر واقع ہے کہ اُترنا کسی چیز کا بیان فرماتا ہے اور اصل مقصود اس اُترنے سے کچھ اورہی ہوتا ہے۔انصاف کرنا چاہیئے کہ کیاحضرت مسیح کا آسمان سے اُترناان آیات کی نسبت زیادہ صفائی سے بیان کیا گیا ہے؟ بلکہ مسیح کا اُترنا صرف بعض حدیثوں کی رو سے خیال کیا جاتا ہے اور حدیثیں بھی ایسی ہیں جن میں آسمان کا ذکر ہی نہیں صرف اُترنا لکھا ہے لیکن گدھوں اور بیلوں کا آسمان سے اُترنا قرآن کریم آپ فرما رہا ہے۔پس سوچ کر دیکھو کہ کس طرف کو ترجیح ہے اگر حضرت مسیح کا آسمان سے اترنا صرف اس لحاظ سے ضروری سمجھا جاتا ہے تو اس سے زیادہ صاف گدھوں اور بیلوں کا اُترنا ہے۔ اگر ظاہر پر ہی ایمان لانا ہے تو پہلے گدھوں اوربیلوں پر ایمان لاؤ کہ وہ حقیقت میں آسمان سے اُترتے ہیں یا اپنا پیچھا چھڑانے کے لئے یوں کروکہ اَنْزَلْنَا کے لفظ کو مضارع استقبال کے معنوں پرحمل کر کے آیت کی اس طرح پر تفسیر کرلو کہ آخری زمانہ میں جب حضرت مسیح آسمان سے اُتریں گے تو ساتھ ہی بہت سے گدھے خاص کر سواری کا گدھا ایسا ہی بہت سے بیل اور گھوڑے اور خچریں اور لوہا بھی آسمان سے اُترے گا تا آیات اورحدیث کی معانی میں پورؔ ی تطبیق ہوجائے ورنہ ہریک شخص اعتراض کرنے کا حق رکھتا ہے کہ قرآن شریف میں کیوں معنے آیات کے ظاہر سے باطن کی طرف پھیرے جاتے ہیں اورحدیثوں میں جو حضرت عیسیٰ کے اُترنے کے بارے میں وہی الفاظ ہیں کیوں اُن کے ظاہری معنے اپنی حد سے بڑھ کر قبول کئے جاتے ہیں حالانکہ قرائن قویہ سے ثابت ہو رہا ہے کہ مسیح جسم کے ساتھ آسمان پر ہرگز نہیں گیا اور نہ آسمان کا لفظ اس آیت میں موجود ہے بلکہ لفظ تو صرف یہ ہے يٰعِيْسٰىۤ اِنِّىْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَىَّ ۱؂ پھردوسری جگہ ہے بَل رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ ۲؂ جس کے یہ معنے ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے مسیح کو موت دے کر پھر اپنی طرف اٹھا لیا جیسا کہ یہ عام محاورہ ہے کہ نیک بندوں کی نسبت جب وہ مر جاتے ہیں یہی کہا کرتے ہیں کہ فلاں بزرگ کو خدائے تعالیٰ نے ۱؂ اٰل عمران: ۵۶ ۲؂ النساء:۱۵۹