ہرگز دلالت نہیں کرتا اوراگر فرض کے طور پر آسمان کا لفظ بھی ہوتا تب بھی ہمارے مطلب کو مضرو مخل نہیں تھا کیونکہ توریت و انجیل میں ایسی آیتیں بہت سی پائی جاتی ہیں جن میں نبیوں کی نسبت لکھا ہے کہ وہ آسمان سے ہی اُترتے ہیں۔ مثلًا یوحناکی انجیل میں حضرت یحییٰ کی طرف سے یہ قول لکھا ہے کہ وہ جو زمین سے آتا ہے وہ زمینی ہے اورزمین سے کہتا ہے وہ جو آسمان سے آتا ہے سب کے اوپر ہے (یعنی نبیوں کا قول دوسرے عقلمندوں کے قول پر مقدّم ہے۔کیونکہ نبی آسمان سے اُترتا ہے ) دیکھو یوحنا باب ۳ آیت ۳۱۔ پھر دوسرا قول یہ ہے۔ میں آسمان پر سے اس لئے نہیں اُترا کہ اپنی مرضی پر چلوں۔یوحنا باب ۶ آیت ۱۱۔ پھر تیسرا قول یہ ہے کہ کوئی آسمان پر نہیں گیا سوائے اُس شخص کے کہ جو آسمان پر سے اُترا۔یوحنا باب ۳ آیت ۱۳۔ اور فقط یہ کہنا کہ ہم نے اُتار ا یا اُترا اس بات پر ہرگز دلالت نہیں کرتا کہ آسمان سے اُتار اگیا ہے کیونکہ قرآن شریف میں یہ بھی * فرمایا گیا ہے کہ ہمؔ نے لوہا اُتار ا اور چار پائے (مویشی ) اُتارے۔
اب ظاہر ہے کہ یہ تمام مویشی توالد تناسل کے ذریعہ پیدا ہوتے ہیں کسی شخص نے کوئی گھوڑا یا بیل یا گدھا وغیرہ آسمان سے اُترتا کبھی نہیں دیکھا ہو گا حالانکہ اس جگہ صریح لفظ نزول کا موجود ہے اور کوئی شخص اس آیت کو ظاہر پر حمل نہیں کرتا۔پھر جبکہ یہ معلوم ہو گیا کہ خدائے تعالیٰ کی کلام میں ایسے ایسے استعارات و مجازات و کنایات بھی موجود ہیں جن کے ظاہر لفظوں میں صریح اور صاف طورپر فرمایا گیا ہے کہ لوہا اورتمام مویشی
* حاشیہ: قال اللہ تعالیٰ (۱) 3 ۱ سورۃ الحدید الجزو نمبر ۲۷ (۲) 3۲ (۳) 3۔ ۳ سورۃ الزمرالجزو نمبر ۲۳ (۱) یعنی ہم نے لوہا اُتارا (۲) اور ہم نے تم پر لباس اُتارا۔ (۳) اور تمہارے لئے چار پائے اُتارے۔ ایسا ہی توریت میں یہ فقرات ہیں۔ ہمارااُترنا بیابان میں۔ گنتی باب ۱۰ آیت ۳۱۔ مجھے یردن کے پار اُترنا نہ ہوگا استثناء باب ۴ آیت ۲۲۔ ہمارے اُترنے کی جگہ ہے۔ پیدائش ۲۴۔ ۲۳۔ اب ان تمام آیات سے ظاہر ہے کہ اُترنے کا لفظ آسمان سے اُترنے پر ہرگز دلالت نہیں کرتا اور اُترنے کے ساتھ آسمان کا لفظ زیادہ کرلینا ایسا ہے جیسا کسی بھوکے سے پوچھاجائے کہ دو او ر دو کتنے ہوتے ہیں تو وہ جواب دے کہ چار روٹیاں۔ منہ