کھلے کھلے ہیں۔اوّل ایلیا نبی کا آسمان سے اُترنا کہ آخر وہ اُترے تو کس طرح اُترے۔دوسرے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال ہونا اور قُلْ سُبْحَانَ رَبِّىْ ۱ اس کا جواب ملنا۔اپنے دلوں میں سوچو کہ کیا یہ اس بات کے سمجھنے کے لئے قرائن قویہ اور دلائل کافیہ نہیں کہ آسمان سے اُترنے سے مراد حقیقی اور واقعی طور پر اُترنا نہیں بلکہ مثالی اور ظلّی طور پر اُترنا مراد ہے۔ابتدائے عالم آفرینش سے آج تک اسی طور سے مقدّس لوگ آسمان سے اُترتے رہے ہیں اور مثالی طور پر ہمیشہ یہ کہتے آئے ہیں کہ یہ آدم ثانی آیا ہے اور یہ یوسف ثانی اور یہ ابراہیم ثانی لیکن آدم زاد کا جسم خاکی کے ساتھ آسمان سے اُترنا اب تک کسی نے مشاہدہ نہیں کیا۔پس وہ امر جواصول نظامِ عالم کے برخلاف اور قانون قدرت کے مبائن ومخالف اور تجارب موجودہ و مشہودہ کا ضد پڑ ا ہے ا س کے ماننے کے لئے صرف ضعیف اور متناقضؔ اور رکیک روایتوں سے کام نہیں چل سکتاسو یہ امید مت رکھو کہ سچ مچ اوردرحقیقت تمام دنیا کو حضرت مسیح ابن مریم آسمان سے فرشتوں کے ساتھ اُترتے ہوئے دکھائی دیں گے۔ اگر اسی شرط سے اس پیشگوئی پر ایمان لانا ہے تو پھر حقیقت معلوم ، وہ اُترچکے تو تم ایمان لاچکے ایسا نہ ہو کہ کسی غبارہ (بیلون ) پر چڑھنے والے اور پھر تمہارے سامنے اُترنے والے کے دھوکہ میں آجاؤ۔سو ہوشیار رہنا آئندہ اس اپنے جمے ہوئے خیال کی وجہ سے کسی ایسے اُترنے والے کو ابن مریم نہ سمجھ بیٹھنا۔ یہ قاعد ہ کی بات ہے کہ جو شخص سچ کو قبول نہیں کرتا پھردوسرے وقت میں اس کو جھوٹ قبول کرنا پڑتا ہے۔جن بے سعادت اور بدبخت لوگوں نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول نہیں کیا تھا اُنہیں نے مسیلمہ کذّاب کو قبول کر لیا حتّٰی کہ چھ سات ہفتہ کے اندر ہی ایک لاکھ سے زیادہ اس پر ایما ن لے آئے۔سو خدائے تعالیٰ سے ڈرو اور الگ الگ گوشوں میں بیٹھ کر فکر کرو کہ اب تک سُنّت اور عادت الٰہی کس طرح پر چلی آئی ہے۔ اور یہ بھی سوچ لو کہ صحیح حدیثوں میں آسمان سے اُترنے کا بھی کہیں ذکر نہیں اور صرفؔ نزل یا ینزل کا لفظ آسمان سے اُترنے پر
۱ بنی اسرائیل:۹۴