جابجا لکھا ہواہے کہ کوئی نبی ایسا نہیں آیا جس کو لوگوں نے بالاتفاق مان لیا ہو۔ اب اگر حضرت مسیح بن مریم نے درحقیقت ایسے طور سے ہی اُترنا ہے جس طور سے ہمارے علماء یقین کئے بیٹھے ہیں تو ظاہر ہے کہ اس سے کوئی فرد بشر انکار نہیں کرسکتالیکن ہمارے علماء کو یاد رکھنا چاہیئے کہ ایسا کبھی نہیں ہو گا۔کیونکہ خدائے تعالیٰ قرآن شریف میں صاف فرماتا ہے کہ اگر میں فرشتوں8 کو بھی زمین پر نبی مقرر کرکے بھیجتا تو انہیں بھی التباس اور اشتباہ سے خالی نہ رکھتا۔یعنی اُن میں بھی ؔ شبہ اور شک کرنے کی جگہ باقی رہتی ہے۔صاف ظاہر ہے کہ یہی معجزہ آسمان سے اُترنے کاہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی مانگا گیا تھا اور اُس وقت اِس معجزہ کے دکھلانے کی بھی ضرورت بہت تھی کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار رسالت کرنے سے جہنم ابدی کی سزا تھی مگر پھر بھی خدائے تعالیٰ نے یہ معجزہ نہ دکھایا اور سائلوں کو صاف جواب ملاکہ اس دارالابتلاء میں ایسے کھلے کھلے معجزات خدائے تعالیٰ ہرگز نہیں دکھاتاتاایمان بالغیب کی صورت میں فرق نہ آوے ۔کیونکہ جب خدائے تعالیٰ کی طرف سے ایک بندہ اُترتا ہوا دیکھ لیا اور فرشتے بھی آسمان سے اُترتے ہوئے نظرآئے توپھر تو بات ہی بکلّی فیصلہ ہو گئی تو پھر کون بدبخت ہے جو اس سے منکر رہے گا ؟ قرآن شریف اس قسم کی آیات سے بھرا پڑا ہے جن میں لکھا ہے کہ ایسے معجزات دکھانا خدائے تعالیٰ کی عادت نہیں ہے اور کفّار مکہ ہمیشہ ایسے ہی معجزات مانگاکرتے تھے۔اور خدائے تعالیٰ برابر انہیں یہ کہتا تھا کہ اگر ہم چاہیں تو کوئی نشان آسمان سے ایسا نازل کریں جس کی طرف تمام منکروں اورکافروں کی گردنیں جھک جائیں۔لیکن اس دارالابتلاء میں ایسا نشان ظاہر کرنا ہماری عادؔ ت نہیں کیونکہ اس سے ایمان بالغیب جس پر تمام ثواب مترتب ہوتا ہے ضائع اور دُور ہو جاتا ہے۔سو اے بھائیو! میں محض نصیحتًا للہ آپ لوگوں کو سمجھاتا ہوں کہ اس خیال محال سے بازآجاؤ۔ان دو قرینوں پر متوجہ ہو کر نظر ڈالو کہ کس قدر قوی اور