اوراُن کایہُ حلیہ ہو گا۔اب ظاہر ہے کہ اگر ایسی پیشگوئی تورؔ یت میں لکھی جاتی تو کسی کو چو ن و چرا کرنے کی حاجت نہ رہتی اورتمام شریروں کے ہاتھ پَیرباندھے جاتے لیکن خدائے تعالیٰ نے ایسا نہیں کیا۔اب سوال یہ ہے کہ کیاخدائے تعالیٰ ایساکرنے پر قادرنہ تھا ؟ اس کا جواب یہی ہے کہ بلا شبہ قادرتھا بلکہ اگر چاہتا تو اس سے بڑھ کر ایسے صاف صاف اور کھلے کھلے نشان لکھ دیتا کہ سب گردنیں اُن کی طرف جُھک جاتیں اور دُنیا میں کوئی منکر نہ رہتا۔ مگراُس نے اِس تصریح اورتوضیح سے لکھنا اس لئے پسند نہیں کیا کہ ہمیشہ پیشگوئیوں میں ایک قسم کا ابتلا بھی اُسے منظورہوتا ہے تا سمجھنے والے اورحق کے سچے طالب اس کو سمجھ لیں۔ اور جن کے نفسوں میں نخوت اور تکبر اور جلد بازی اور ظاہر بینی ہے وہ اس کے قبول کرنے سے محروم رہ جائیں۔ اب یقینًا سمجھو کہ یہی حال اس پیشگوئی کا ہے کہ جو کہا گیا ہے کہ ابن مریم دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے دمشق کے شرقی طرف منارہ کے پاس اُترے گا کیونکہ اگر اسی طور اور اسی ظاہری صورت پر پیشگوئی نے پورا ہونا ہے تو پھر ایسے طور سے اُترنے کے وقت میں دنیا کے باشندوں میں سے کون منکر رہ سکتا ہے ؟تمام قوموں کو جو اَب دنیا پر بستی ہیں کیا یہودی اورکیا عیسائی اور کیاہندو اور بدھ مذہب والے او رؔ مجوسی غرض سب فرقوں کو پوچھ کر دیکھ لو کہ اگر اس طور سے اُترتا کوئی نبی تمہیں دکھائی دے تو کیا پھر بھی تم اس کی نبوت اور اس کے دین میں کچھ شک اور شبہ رکھتے رہو گے ؟ بلاشبہ تمام لوگ یہی جواب دیں گے کہ اگر ہم ایسا بزرگ فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے آسمان سے اُترتا ہوا دیکھ لیں تو بلاشبہ ایمان لے آویں گے حالانکہ اللہ جلَّ شَانُہٗ قرآن شریف میں یہ فرماتا ہے يٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ ‌ۚ مَا يَاْتِيْهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ ۱؂ یعنی اے حسرت بندوں پر کہ ایسا کوئی نبی نہیں آتا جس سے وہ ٹھٹھا نہ کریں۔ایساہی قرآن شریف کے دوسرے مقامات میں ۱؂ یٰسٓ ۳۱‏