اب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں توریت کی پیشگوئیوں پر نظر ڈالیں کہ اگرچہ توریت کے دو مقام میں ایسی پیشگوئیاں ملتی ہیں کہ جو غور کرنے والوں پر بشرطیکہ منصف بھی ہوں ظاہر کرتی ہیں کہ درحقیقت وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں لکھی گئی ہیں۔ لیکن کج بحثی کے لئے ان میں گنجائش بھی بہت ہے۔مثلًا توریت میں لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل کو کہا کہ خداوند تیرا خدا تیرے لئے تیرے ہی درمیان سے تیرے ہی بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی قائم کرے گا۔ اس پیشگوئی میں مشکلات یہ ہیں کہ اُسی توریت کے بعض مقامات میں بنی اسرائیل کو ہی بنی اسرائیل کے بھائی لکھاہے اور بعض جگہ بنی اسمٰعیل کو بھی بنی اسرائیل کے بھائی لکھا ہے ایسا ہی دوسرے بھائیوں کا بھی ذکر ہے۔اب اس بات کاؔ قطعی اوربدیہی طور پر کیوں کر فیصلہ ہو کہ بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے مراد فقط بنی اسمٰعیل ہی ہیں بلکہ یہ لفظ کہ ’’تیرے ہی درمیان سے ‘‘ لکھا ہے زیادہ عبارت کو مشتبہ کرتا ہے اور گو ہم لوگ بہت سے دلائل اور قرائن کو ایک جگہ جمع کر کے اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت موسیٰ میں جو مماثلت ہے بپایۂ ثبوت پہنچاکر ایک حق کے طالب کے لئے نظری طورپر یہ بات ثابت کر دکھاتے ہیں کہ درحقیقت اس جگہ اس پیشگوئی کا مصداق بجُز ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کوئی شخص نہیں۔لیکن یہ پیشگوئی ایسی صاف اور بدیہی تو نہیں کہ ہرایک اجہل اوراحمق کو اس کے ذریعہ سے ہم قائل کرسکیں بلکہ ا س کا سمجھنا بھی پوری عقل کا محتاج ہے اور پھر سمجھانا بھی پوری عقل کا محتاج۔اگر خدائے تعالیٰ کو ابتلا خلق اللہ کا منظورنہ ہوتا اور ہر طرح سے کھلے کھلے طور پر پیشگوئی کا بیان کرنا ارادۂ الٰہی ہوتا تو پھر اس طرح پر بیان کرنا چاہیئے تھا کہ اے موسیٰ میں تیرے بعد بائیسویں صدی میں ملک عرب میں بنی اسمٰعیل میں سے ایک نبی پیداکروں گا جس کا نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوگا اور اُن کے باپ کانام عبداللہ اورداداکا نام عبدالمطلب اوروالدہ کانام آمنہ ہو گا۔اور وہ مکہ شہرمیں پیدا ہو ں گے