اُن علامات کے لحاظ سے اُس پر ایمان لایا جاوے ہاں یہ سچ اور بالکل سچ ہے کہ اگر سلاطین اور ملاکی کے بیانات کو مسلمان لوگ بھی یہودیوں کی طرح محمول پر ظاہر کریں تو وہ بھی کسی طرح یحیٰی بن زکریا کو مصداق اُس کی پیشگوئی کا نہیں ٹھہراسکتے اور اس پیچ میں آکر مسیح ابن مریم کی نبوت بھی ہر گز ثابت نہیں ہو سکتی۔ قرآن شریف نے مسیح کی تا ویل کو جو ایلیا نبی کے آسمان سے اُتر نے کے بارہ میں انہوں نے کی تھی قبولؔ کر لیا اورمسیح کو اور یحییٰ کو سچا نبیْ ٹھہرایا ورنہ اگر قرآن شریف ایلیا کا آسمان سے اُترنا اسی طرح معتبر سمجھتا یعنی ظاہری طور پر جیسا کہ ہمارے بھائی مسلمان مسیح کے اُترنے کے بارہ میں سمجھتے ہیں تو ہرگز مسیح کو نبی قرار نہ دیتا کیونکہ سلاطین اور ملاکی آسمانی کتابیں ہیں اگر ان مقامات میں اُن کے ظاہری معنے معتبر ہیں تو ان معانی کے چھوڑنے سے وہ سب کتابیں نکمّی اور بے کار ٹھہر جائیں گی۔ میرے دوست مولوی محمد حسین صاحب اس مقام میں بھی غور کریں ؟ اور اگر یہ کہا جا ئے کہ کیا یہ ممکن نہیں کہ سلاطین اور ملاکی کے وہ مقامات محرّ ف و مبدّل ہوں تو جیسا کہ ابھی میں لکھ چکا ہوں تو یہ سراسر وہم و گمان باطل ہے کیونکہ اگر وہ مقام محر ف و مبدل ہوتے تو مسیح بن مریم کا یہودیوں کے مقابل پر یہ عمدہ جواب تھاکہ جو کچھ تمہاری کتابوں میں ایلیا کا آسمان پر جانا اورپھر اُترنے کا وعدہ لکھاہے یہ بات ہی غلط ہے اور یہ مقامات تحریف شدہ ہیں۔ بلکہ مسیح نے تو ایسا عذر پیش نہ کرنے سے اُن مقامات کی صحت کی تصدیق کردی۔ ماسوا اس کے وہ کتابیں جیسے یہودیوں کے پاس تھیں ویسے ہی حضرت مسیح اور اُن کے حواری اُن کتابوں کو پڑھتے تھے اوراُن کے نگہبان ہوگئے تھے اور یہودیوں کے لئے ؔ ہم کوئی ایسا موجب عند العقل قرار نہیں دے سکتے جو ان مقامات کے محرف کرنے کے لئے انہیں بے قرار کرتا۔ اب حاصل کلام یہ کہ مسیح کی پیشگوئی کے بارے میں ایلیا کے قصّہ نے یہودیوں کی راہ میں ایسے پتھر ڈال دئے کہ اب تک وہ اپنے اس راہ کو صاف نہیں کر سکے اوربے شمار روحیں اُن کی کفر کی حالت میں اِس دنیا سے کوچ کر گئیں۔