حضرت اسمٰعیل صاحب اپنی صحیح بخاری میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ ان کتابوں میں کو ئی لفظی تحریف نہیں۔ یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے اور پہلے بھی ہم کئی مرتبہ ذکرکرؔ آئے ہیں کہ جس قدر پیشگوئیاں خدائے تعالیٰ کی کتابوں میں موجود ہیں اُن سب میں ایک قسم کی آزمائش ارادہ کی گئی ہے اس میں کچھ شک نہیں کہ اگر کوئی پیشگوئی صاف اور صریح طور پر کسی نبی کے بارے میں بیان کی جاتی تو سب سے پہلے مستحق ایسی پیشگوئی کے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے کیونکہ اگر مسیح کے اُترنے سے انکار کیا جائے تو یہ امر کچھ مستوجب کفر نہیں لیکن اگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت سے انکار کیا جاوے تو بلاشبہ وہ انکار جاودانی جہنّم تک پہنچائے گا۔ مگر ناظرین کو معلوم ہوگا کہ تمام توریت و انجیل میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اور ایسا ہی حضرت مسیح کی نسبت بھی کوئی ایسی کھلی کھلی اور صاف پیشگوئی نہیں پائی جاتی جس کے ذریعہ سے ہم یہودیوں کو جا کر گردن سے پکڑلیں۔حضرت مسیح بھی باربار یہودیوں کو کہتے رہے کہ میری بابت موسیٰ نے توریت میں لکھا ہے مگر یہودیوں نے ہمیشہ انہیں یہی جواب دیا کہ اگر چہ یہ سچ ہے کہ ہماری کتابوں میں ایک مسیح کے آنے کی بھی خبر دی گئی ہے مگر تم خود دیکھ لوکہ مسیح کے آنے کا ہمیں یہ نشان دیا گیا ہے کہ ضرور ہے کہ اس سے پہلے ایلیا آسمان سے اُترے جس کا آسمان پر جانا سلاطین کی کتاب میںؔ بیان کیا گیا ہے اس کے جواب میں ہر چند حضرت مسیح یہی کہتے رہے کہ وہ ایلیا یو حنا یعنی یحیٰیزکریا کا بیٹا ہے مگر اس دور دراز تاویل کو کون سُنتا تھا اور ظاہر تقریر کی رُو سے یہودی لوگ اس عذ ر میں سچے معلوم ہوتے تھے سو اگرچہ خدائے تعالیٰ قادر تھا کہ ایلیا نبی کو آسمان سے اُتارتا اور یہودیوں کے تمام وساوس بکلّی رفع کر دیتا لیکن اُس نے ایسا نہیں کیا تا صادق اور کاذب دونوں آزمائے جائیں کیونکہ شریر آ دمی صرف ظاہری حُجّت کی رُو سے بے شبہ ایسے مقام میں سخت انکار کر سکتا ہے لیکن ایک را ستباز آدمی کے سمجھنے کے لئے یہ راہ کھلی تھی کہ آسمان سے اُترنا کسی اور طور سے تعبیر کیا جائے اور ایک نبی جو دوسری علامات صدق اپنے ساتھ رکھتا ہے