قبول کرنے کے بارہ میں جو مشکلات پیش آگئے تھے اتنے بڑے مشکلات ہمارے بھائی مسلمانوں کو ہرگز پیش نہیں آئے کیونکہ سلاطین ۲ باب ۲ میں صاف طور پر لکھا ہوا اب تک موجود ہے کہ ایلیا نبی جسم کے ساتھ آسمان کی طرف اُٹھایا گیا اورچادراُس کی زمین پر گر پڑی اور پھرملاکی باب ۴ آیت ۵ میں ایسی ہی صفائی کے ساتھ وعدہ دیا گیا ہے کہ پھر وہ دنیا میں آئے گا اور مسیح کے لئے راہ درست کرے گا لیکن ہمارے بھائی مسلمان ان تمام مشکلات سے بالکل آزاد ہیں کیو نکہ قرآن شریف میں جسم کے ساتھ اُٹھائے جا نے کا اشارہ تک بھی نہیں بلکہ مسیح کے فوت ہوجانے کا بتصریح ذکر ہے اگرچہ حدیثوں کی بے سروپار وایتوں میں سند منقطع کے ساتھ ایسا ذکر بہت سے تناقض سے بھرا ہوا کہیں کہیں پایا جاتا ہے لیکن ساتھ اس کے اُنہیں حدیثوں میں مسیح کا فوت ہونا بھی بیان کیا گیا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ باوجود اس تعارض اور تناقض کےؔ ضرورت ہی کیا ہے جو غیر معقول شق کی طرف توجہ کی جائے جس حالت میں قر آن اور حدیث کے روسے وہ راہ بھی کھلی ہوئی نظر آتی ہے جس پر کو ئی اعتراض شرع اور عقل کا نہیں یعنی مسیح کا فوت ہوجانا اور رُوح کااُٹھا یا جانا تو کیوں ہم اُسی راہ کو قبول نہ کریں جس پر قرآن شریف کی بیّنات زور دے رہی ہیں ؟۔ ہم نے ایلیا کے صعود و نزول کا ِ قصہ اس غرض سے اس جگہ لکھا ہے کہ تا ہمارے بھائی مسلمان ذرہ غور کر کے سوچیں کہ جس مسیح ابن مریم کے لئے وہ لڑتے مرتے ہیں اُسی نے یہ فیصلہ دیا ہے اور اسی فیصلہ کی قرآن شریف نے بھی تصدیق کی ہے۔ اگر آسمان سے اُتر نا اِسی طور سے جائز نہیں جیسے طور سے ایلیا کا اُتر نا حضرت مسیح نے بیان فرمایا ہے تو پھر مسیح منجانب اللہ نبی نہیں ہے بلکہ نعوذ باللہ قرآن شریف پر بھی اعتراض آتا ہے جو مسیح کی نبوت کا مصدق ہے اب اگر مسیح کو سچا نبی ماننا ہے تو اس کے فیصلہ کو بھی مان لینا چاہئے زبردستی سے یہ نہیں کہنا چاہئے کہ یہ ساری کتابیں محرّف و مبدّل ہیں بلا شبہ ان مقامات سے تحریف کا کچھ علاقہ نہیں اور دونوں فریق یہود و نصاریٰ ان عبارتوں کی صحت کے قائل ہیں اور پھر ہمارے امام ا لمحدثین