یاد رکھناچاہئے کہ ایلیا کا آسمان پر جانا اور پھر آسمان سے کسی زمانہ میں اُترنا بطور پیشگوئی ایک وعدہ تھا اور یہودیوں کا اجماعی عقیدہ مسلمانوں کی طرح اب تک یہی ہے کہ حضرت ایلیا جسم کے ساتھ آسمان پر زندہ اُٹھائے گئے اور پھر آخری زمانہ میں اُسی جسم کے ساتھ پھرآسمان سے اُتریں گے چنانچہ ایلیا کا جسم کے ساتھ آسمان پر جانا سلاطین ۲ باب ۲ آیت ۱۱ میں مندرج ہے اور پھر اس کے اُترنے کا وعدہ صحیفہ ملاکی کے باب ۴ آیت ۵میں بطور پیشگوئی کے دیا گیا ہے جس کے اب تک یہودی لوگ منتظر ہیں اور حضرت مسیح نے جو حضرت یحییٰ کی نسبت کہا کہ ایلیا جو آنیوالا تھا یہی ہے یہ کلمہ جمہور یہود کے اجماع کے برخلاف تھا۔اسی وجہ سے اُنہوں نے نہ مسیح کو قبول کیا نہ یحییٰ کو۔ کیونکہ وہ تو آسمان کی راہ دیکھ رہے تھے کہ کبؔ ایلیا فرشتوں کے کندھوں پر اُترتا ہے اور بڑی مشکلات اُن کو یہ پیش آ گئی تھیں کہ اسی طور کے اُترنے پر اُن کا اجماع ہو چکا تھا اور ظواہر نصوص صحیفہ سلاطین و صحیفہ ملاکی اسی پر دلالت کرتے تھے۔سو انہوں نے اس آزمائش میں پڑ کر حضرت یحییٰ علیہ السلام کو قبول نہ کیا بلکہ مسیح کی نبوت سے بھی انکاری رہے کیونکہ اُن کی کتابوں میں لکھا تھا کہ ضرور ہے کہ مسیح کے آنے سے پہلے ایلیا آسمان سے اُتر آوے سو چونکہ ایلیا کا آسما ن سے اُترنا جس طرح انہوں نے اپنے دلوں میں مقرر کر رکھا تھا اُسی طرح ظہور میں نہ آیا۔اس لئے ظاہر پرستی کی شامت سے یہودیوں کو دو سچے نبیوں کی نبوت سے منکر رہنا پڑا یعنی مسیح اور یحییٰ سے۔ اگر وہ لوگ اس ظاہرپرستی سے باز آکر سلاطین اور ملاکی کی عبارتوں کو استعارات و مجازات پر حمل کر لیتے تو آج دنیا میں ایک بھی یہودی نظر نہ آتا سب کے سب عیسائی ہو جاتے کیونکہ صحیفہ سلاطین اور صحیفہ ملاکی میں ایلیا نبی کے دوبارہ آنے سے درحقیقت مراد یہی تھی کہ ظِلّی اورمثالی وجود کے ساتھ پھر ایلیا دنیا میں آئے گا جس سے مراد حضرت یحییٰ کا آنا تھا جو باعتبار اپنے روحانی خواص کے مثیل ایلیا تھے لیکنؔ یہودیوں نے اپنی بد قسمتی اور بے سعادتی کی وجہ سے اُن روحانی معنوں کی طرف رُخ نہ کیا اور ظاہر پرستی میں پھنسے رہے۔اور درحقیقت ذرہ غور سے دیکھیں تو یہودیوں کو حضرت یحییٰ کے