بکلّی مخالف اور نیز ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ثابت نہیں ہوسکتیں بلکہ اُن کے مخالف حدیثیں ثابت ہورہی ہیں تعلیم یافتہ لوگوں میں ہرگز نہیں پھیلا سکتے اور نہ یورپ امریکہ کے محقق طبع لوگوں کی طرف جو اپنے دین کے لغویات سے دست بردار ہو رہے ہیں بطور ہدیہ و تحفہ بھیج سکتے ہیں۔ جن لوگوں کے دل اور دماغ کو نئے علوم کی روشنی نے انسانی قوتوں میں ترقی دے دی ہے وہ ایسی باتوں کو کیوں کر تسلیم کرلیں گے جن میں سراسر خدائے تعالیٰ کی توہین اور اسؔ کی توحید کی اہانت اور اس کے قانون قدرت کا ابطال اور اس کے کتابی اصول کی تنسیخ پائی جاتی ہے۔
اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ مسیح کا جسم کے ساتھ آسمان سے اُترنا اُس کے جسم کے ساتھ چڑھنے کی فرع ہے لہذا یہ بحث بھی کہ مسیح اُسی جسم کے ساتھ آسمان سے اُترے گا جو دنیا میں اُسے کو حاصل تھا اس دوسری بحث کی فرع ہوگی جو مسیح جسم کے ساتھ آسمان پر اُٹھایا گیا تھا جبکہ یہ بات قرار پائی تواّول ہمیں اُس عقیدہ پر نظر ڈالنا چاہیئے جو اصل قرار دیا گیا ہے کہ کہاں تک وہ قرآن اورحدیث سے ثابت ہے۔کیونکہ اگر اصل کا کما حقہ‘ تصفیہ ہوجائے گا تو پھر اُس کی فر ع ماننے میں کچھ تامل نہیں ہوگا اور کم سے کم امکانی طور پر ہم قبول کرسکیں گے کہ جب کہ ایک شخص کا جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر چلے جانا ثابت ہوگیا ہے تو پھر اُسی جسم کے ساتھ واپس آنا اُس کا کیا مشکل ہے لیکن اگر اصل بحث قرآن اور حدیث سے ثابت نہ ہو سکے بلکہ حقیقت امر اس کے مخالف ثابت ہو تو ہم فرع کو کسی طرح سے تسلیم نہیں کرسکتے اگر فرع کی تائید میں بعض حدیثیں بھی ہوں گی تو ہم پر فرض ہو گا کہ اُن کو اصل سے تطبیق دینے کے لئے کوششؔ کریں اور اگر برعایت اصل وہ حدیثیں حقیقت پر حمل نہ ہوسکیں تو پھر ہم پر واجب ہو گا کہ انہیں استعارات و مجازات میں داخل کرلیں اوربجائے مسیح کے اُترنے کے کسی مثیل مسیح کا اُترنا مان لیں جیساکہ خود حضرت مسیح نے ایلیا نبی کی نسبت مان لیا۔ حالانکہ تمام یہودیوں کا اسی پر اجماع تھا اور اب تک ہے کہ ایلیا آسمان سے اُترآئے گا۔