آسمان کی طرف اُٹھائی گئی بلاشبہ ہریک شخص کا نُورِ قلب اورکانشنس بلا تردّد اس بات کو سمجھ لیتا اور قبول کرلیتا ہے کہ ایک شخص مومن کی موت کے بعد شرعی اور طبعی طورپر یہی ضروری امر ہے کہ اس کی روح آسمان کی طرفؔ اُٹھائی جائے اور اس طریق کا انکار کرنا گویا امہات مسائل دین کا انکار ہے اورنص اورحدیث سے کوئی ثبوت اس کا نہیں مل سکتا اگرحضرت عیسیٰ حقیقت میں موت کے بعد پھر جسم کے ساتھ اُٹھائے گئے تھے تو قرآن شریف میں عبارت یوں چاہیئے تھی یا عیسٰی انی متوفّیک ثم مُحییک ثم رافعک مع جسد ک الی السمآء یعنی اے عیسیٰ مَیں تجھے وفات دوں گا پھر زندہ کروں گا پھر تجھے تیرے جسم کے ساتھ آسمان کی طرف اُٹھالوں گا۔لیکن اب تو بجُز مجرد رافعک کے جومتوفّیک کے بعد ہے کوئی دوسرا لفظ رافعک کا تمام قرآن شریف میں نظر نہیں آتا جو ثم محییک کے بعد ہو اگر کسی جگہ ہے تو وہ دکھلانا چاہیئے۔ میں بدعویٰ کہتا ہوں کہ اس ثبوت کے بعد کہ حضرت عیسیٰ فی الحقیقت فوت ہو گئے تھے یقینی طور پر یہی مانناپڑے گا کہ جہاں جہاں رافعک یا بل رفعہ اللہ الیہ ہے اس سے مراد اُن کی روح کا اُٹھایا جانا ہے جو ہریک مومن کے لئے ضروری ہے۔ ضروری کو چھوڑ کر غیر ضروری کا خیال دل میں لانا سراسر جہل ہے۔ہم بیا ن کر چکے ہیں کہ تمام نبی خدائے تعالیٰ کی طرف ہی اُٹھائے جاتے ہیں۔
اب ؔ ہم بخوبی ثابت کر چکے ہیں کہ یہ عقیدہ کہ مسیح جسم کے ساتھ آسمان پر چلا گیا تھا قرآن شریف اوراحادیث صحیحہ سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا صرف بیہودہ اور بے اصل اور متناقض روایات پراس کی بنیاد معلوم ہوتی ہے مگر اس فلسفی الطبع زمانہ میں جو عقلی شائستگی اور ذہنی تیزی اپنے ساتھ رکھتا ہے ایسے عقیدوں کے ساتھ دینی کامیابی کی اُمید رکھنا ایک بڑی بھاری غلطی ہے اگر افریقہ کے ریگستان یا عرب کے صحرانشین اُمّیوں اور بدّوؤں میں یا سمندر کے جزیروں کے اور وحشی لوگوں کی جماعتوں میں یہ بے سروپا باتیں پھیلائیں تو شایدآسانی سے پھیل سکیں لیکن ہم ایسی تعلیمات کو جو عقل اور تجربہ اور طبعی اور فلسفہ سے