جو ناک میں پہنچ کر دماغ کو معطّر کر دیتی ہو باہر نکل آتی ہے اورؔ فرشتے آسمان کے کناروں پر کہتے ہیں کہ ایک روح چلی آتی ہے جو بہت پاکیزہ اور خوشبو دارہے۔ تب آسمان کا کوئی دروازہ ایسا نہیں ہوتا جو اس کے لئے کھولا نہ جائے اور کوئی فرشتہ آسمان کا نہیں ہوتا کہ اُس کے لئے دعانہ کرے یہاں تک کہ وہ روح پایۂ عرش الٰہی تک پہنچ جاتی ہے تب خدائے تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہے پھر میکائیل کو حکم ہوتا ہے کہ جہاں اور روحیں ہیں وہیں اس کو بھی لے جا۔
اب قرآن شریف کی اس آیت اور حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت سے بخوبی ثابت ہو گیا کہ روح مومن کی اُس کے فوت ہونے کے بعد بلا توقف آسمان پر پہنچائی جا تی ہے جبکہ حقیقت حال یہ ہے تو پھر قرآن شریف کی اس آیت کو کہ يٰعِيْسٰىۤ اِنِّىْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَىَّ ۱ ہے یا اس آیت کو کہ بَل رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ ۲ ہے اس طرف کھینچنا کہ گویا حضرت عیسیٰ جسم کے ساتھ آسمان پر اُٹھائے گئے تھے صریح تحکم اورزبردستی ہو گی کیو نکہ جبکہ برطبق روایت ابن عباس و سیاق و سباق کلام الٰہی متوفّیک کے معنی یہی ہیں کہ میں تجھے ماروں گا تو پھر صاف ظاہر ہے جیساکہ ابھی ہم بحوالہ کلام الٰہی لکھ چکے ہیں کہؔ موت کے بعد نیک بختوں کی روح بلا توقف آسمان کی طرف جاتی ہے یہ تو نہیں کہ فرشتہ ملک الموت روح کو نکال کر کئی گھنٹہ تک وہیں کھڑا رہتا ہے۔اب اگر ہم فرض کے طور پر وہب کی روایت کو قبول کر لیں کہ حضرت عیسیٰ تین گھنٹہ تک مرے رہے یا سات گھنٹہ تک مردہ پڑے رہے تو کیا ہم یہ بھی قبول کرسکتے ہیں کہ تین گھنٹہ تک یا سات گھنٹہ تک فرشتہ ملک الموت اُن کی رُوح اپنی مُٹھی میں لے کر اُسی جگہ بیٹھا رہا یا جہاں جہاں لاش کو لوگ لے جاتے رہے ساتھ پھرتا رہا اور آسمان کی طرف اس روح کو اُٹھا کر نہیں لے گیا۔ایساوہم تو سراسرخلاف نص و حدیث اورمخالف تمام کتب الہامیہ ہے اور جبکہ ضروری طورپر یہی ماننا پڑا کہ ہریک مومن کی روح مرنے کے بعد آسمان کی طرف اُٹھائی جاتی ہے تو اس سے صاف طورپر کُھل گیا کہ رافعک الیّ کے یہی معنے ہیں کہ جب حضرت عیسیٰ فوت ہو چکے تو اُن کی روح
۱ اٰل عمران: ۵۶ ۲ النساء:۱۵۹