مسیح ابن مریم کا فوت ہو جانا ثابت ہوتا ہے لیکن ساتھ ہی فرقان حمید میں رافعک الیّ کا لفظ بھی تو موجود ہے جس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ زندہ ہو کر پھرآسمان کی طرف اُٹھایا گیا۔ اس وہم کا جواب یہ ہے کہ آسمان کا تو کہیں اس جگہ ذکر بھی نہیں اس کے معنے تو صرف اس قدر ہیں کہ مَیں اپنی طرف تجھے اُٹھالوں گا اور ظاہر ہے کہ جو نیک آدمی مرتا ہے اُسی کی طرف روحانی طورپر اُٹھایا جاتاہے کیا خدائے تعالیٰ دوسرے آسمان پر بیٹھا ہوا ہے جہاں حضرت یحییٰ اورحضرت عیسیٰ کی روح ہے اورنیز جس حالت میں قرآن شریف اور حدیث کی رو سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بلاشبہ فوت ہوگئے تھے تو پھر اس ثبوت کے بعد رفع سے مراد جسم کے ساتھ اُٹھایا جانا کمال درجہ کی غلطی ہے بلکہ صریح اور بدیہی طور پر سیاق وسباق قرآن شریف سے ثابت ہو رؔ ہا ہے کہ حضرت عیسیٰ کے فوت ہونے کے بعد اُن کی روح آسمان کی طرف اُٹھائی گئی۔وجہ یہ کہ قرآن شریف میں صاف طور پر لکھا گیا ہے کہ ہریک مومن جو فوت ہوتا ہے تو اس کی روح خدائے تعالیٰ کی طرف اُٹھائی جاتی ہے اور بہشت میں داخل کی جاتی ہے جیساکہ اللہ جلَّشَانُہٗ فرماتاہے :۔ يٰۤاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَٮِٕنَّةُ ارْجِعِىْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً فَادْخُلِىْ فِىْ عِبٰدِىۙ وَادْخُلِىْ جَنَّتِى ۱؂ اے وہ نفس جو خدائے تعالیٰ سے آرام یافتہ ہے اپنے رب کی طرف چلا آ۔تُو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی پس میرے بندوں میں داخل ہوجا اور میرے بہشت میں اندرآ۔اس جگہ صاحب تفسیر معالم اس آیت کی تفسیر کرکے اپنی کتاب کے صفحہ ۹۷۵ میں لکھتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب بندہ مومن وفات پانے پر ہوتا ہے تو اس کی طرف اللہ جلَّشَانُہٗ دوفرشتے بھیجتاہے اور اُن کے ساتھ کچھ بہشت کا تحفہ بھی بھیجتا ہے اور وہ فرشتے آکر اس کی روح کو کہتے ہیں کہ اے نفس مطمئنہ تو رَوح اور رَیحان اور اپنے رب کی طرف جو تجھ سے راضی ہے نکل آ۔ تب وہ روح مشک کی اس خوشبو کی طرح جو بہت لطیف اور خوش کرنے والی ہو ۱؂ الفجر: ۲۸ تا ۳۱ ‌ۚ‏