کلام کو بغرض تائید مطلب ہذا فتوحات مکیہ باب ۲۲۳سے نقل کر تے ہیں اور وہ عبارت معہ ترجمہ مندرجہ ذیل ہے۔ غایۃ الوصلۃ ان یکون الشیء عین ما ظھر ولا یعرف کما رأ یت رسولؔ اللّٰہ صلی اللہ علیہ و سلم وقد عانق ابن حزم المحدث فغاب احدھما فی الاٰخر فلم نرالا واحداً وھو رسول اللّٰہ صلعم فھذہ غایۃ الوصلۃ وھو المعبر عنہ بالاتحاد (فتوحات مکیۃ) یعنی نہایت درجہ کا اتصال یہ ہے کہ ایک چیز بعینہٖ وہ چیز ہو جا ئے جس میں وہ ظا ہر ہو اور خود نظر نہ آو ے جیسا کہ مَیں نے خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے ابو محمد بن حزم محدث سے معانقہ کیا۔پس ایک دوسرے میں غائب ہو گیا بجز ایک رسول اللہ صلعم کے نظر نہ آیا۔پھر بعد اس کے مولوی صاحب موصوف اپنے اس بیان کی تائید میں نواب صدیق حسن مرحوم کی کتاب اتحاف النبلاء میں سے ایک عربی رباعی معہ ترجمہ نقل کر تے ہیں اور وہ یہ ہے۔ توھم راشینا بلیل مزارہ فھمّ لیسعی بیننا بالتباعد فعانقتہ حتی اتحدنا تعانقًا فلمّا اتانا مارأی غیر واحد جس کا ترجمہ یہ ہے۔ ہمارے بد گو (رقیب) نے شب کو ہمارے پاس ہمارے معشوق کے آنے کا گمان کیا تو ہم میں جدائی ڈالنے میں کوشش کرنے لگا۔پس میں نے اپنے معشوق کو گلے سے لگا لیا۔پھر وہ (رقیب )آیا تو اُس نے بجز ؔ مجھ ایک کے کسی کو نہ دیکھا۔پھر یہ شعر فارسی نقل کیاہے۔ جذبۂ شوق بحدیست میان من و تو کہ رقیب آمد ونہ شناخت نشان من و تو اس کے بعد یہ جملہ دعائیہ لکھا ہے رزقنااللہ من ھٰذالاتحاد فی الدنیا والاٰخرۃ یعنی خدائے تعالیٰ ہم کو بھی ایسا ہی اتحا د دنیا اورآخرت میں نصیب کرے۔ پھرمیں مسیح ابن مریم کے فوت ہو جانے کی نسبت تتمہ کلام بیان کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اگر یہ اعتراض پیش کیا جائے کہ گو احادیث اور فرقان اورانجیل کی رُو سے