لیکن اُس زمانہ کے گذرنے کے بعد پھر ایسے معتقد ہو گئے کہ جس کا حد انتہا نہیں اور اُن کے شطحیات کی بھی تا ویلیں کرنے لگے۔
ایسا ہی سیّد عبدالقا در جیلا نی رضی اللہ عنہ اپنی کتاب فتو ح الغیب میں اس بات کی طرف اشارہ فر ما تے ہیں کہ انسان بحالت ترک نفس و اطلاق و فنا فی اللہ تمام انبیاء کا مثیل بلکہ اُنہیں کی صورت کا ہو جاتا ہے اور اس عاجز کے دوست مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی نے بھی اپنے رسالہ اشاعۃالسنہ نمبر۷ جلد ۷ میں جواز و امکان مثیلیّت کے بارہ میں بہت کچھ لکھا ہے اور اگرچہ اس عاجز کے اس دعویٰ کی نسبت جو مثیل موعود ہو نے کے بارہ میں براہینؔ میں درج ہے اور بتصریح ظاہر کیا گیا ہے کہ قر آن کریم اور حدیث نبویہ میں اس عاجز کی نسبت بطور پیشگوئی خبر دی گئی ہے مو لو ی صاحب مو صو ف نے کھلے کھلے طور پر کو ئی اقرار نہیں کیا لیکن امکانی طور پر تسلیم کر گئے ہیں کیو نکہ اُن کا اس معرض بیان میں جو بمنصب ریو یو لکھنے کے اُن کے لئے ضروری تھا سکوت اختیار کر نا اور انکار اور منع سے زبان نہ کھولنا د لیلؔ قوی اس بات کی ہے کہ وہ اس بات کے بھی ہر گز مخالف نہیں کہ یہ عاجز مجازی اور روحانی طور پر وہی مسیح موعود ہے جس کی قر آن اور حدیث میں خبر دی گئی ہے کیونکہ براہین میں صاف طور پر اس بات کا تذکرہ کر دیا گیا تھا کہ یہ عاجز روحانی طور پر وہی موعود مسیح ہے جس کی اللہ ورسول نے پہلے سے خبر دے رکھی ہے۔ہاں اس بات سے اُس وقت انکار نہیں ہوا اور نہ اب انکار ہے کہ شاید پیشگوئیو ں کے ظاہری معنوں کے لحاظ سے کو ئی اَور مسیح موعود بھی آئندہ کسی وقت پیدا ہو مگر فرق اِس وقت کے بیان اور براہین احمدیہ کے بیان میں صرف اس قدر ہے کہ اُس وقت بباعث اجمال الہام کے اور نہ معلوم ہونے ہرایک پہلو کے اجمالی طور پر لکھا گیا تھا اور اب مفصل طور پر لکھاگیا بہر حال مولوی صاحب موصوف نے اس عا جز کے مثیل مسیح ہونے کے بارہ میں امکانی ثبوت پیدا کر نے کے لئے بہت زور دیا ہے چنانچہ ایک جگہ وہ محی الد ین ابن عربی صاحب کے