ذرا سوچ کر بتلاویں کہ اگر اس آیت کریمہ کے یہ معنے نہیں ہیں کہ جو میَں نے بیان کئے ہیں تو اور کیا معنے ہیں اور اگر یہ معنے صحیح نہیں ہیں تو پھر اللہ جلّشَانُہٗ کیوں فر ما تا ہے قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِىْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ ۱؂ یعنی ان کو کہہ دو کہ اگر تم خدائے تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو آؤ میری پَیروی کرو تا خدائے تعالیٰ بھی تم سے محبت رکھے اور تمہیں اپنا محبوب بنالیوے۔اب سو چنا چاہئے کہ جس وقت انسان ایک محبوب کی پَیروی سے خود بھی محبوب بن گیا تو کیا اس محبوب کا مثیل ہی ہو گیا یا ابھی غیر مثیل رہا۔ افسوس! ہمارے پُر کینہ مخالف ذرا نہیں سو چتے کہ طالبِ مولیٰ کے لئے یہی تو عمدہ اور اعلیٰ خواہش ہے جو اس کو مجاہدات کی طرف رغبت دیتی ہے اور یہی تو ایک زور آور انجن ہے جو تقویٰ اور طہارت اور اخلاص اور صدق اور صفا اور استقامت کے مراتب عا لیہ کی طرف کھینچتا چلا جاتا ہے اور یہی تو وہ پیاس لگانے والی آگ ہے جس سے ظاہر و باطن سالک کا بھڑک اُٹھتا ہے اگر اس مقصد کے حصول سے یا س کلّی ہو تو پھر اس محبوب حقیقی کے سچے طالب جیتے ہی مر جائیں۔آج تک جس قدر اکا بر متصوّفین گذرے ہیں اُن میں سے ایک کو بھی اس میں اختلاف نہیں کہ اس دین متین میں مثیل الا نبیاء بننے کی راہ کھلی ہوئی ہے جیسا کہ آنحضرت صلعم روحا ؔ نی اور ربّانی علماء کے لئے یہ خوشخبری فرما گئے ہیں کہعلماء اُمّتی کانبیاء بنی اسرا ئیل اور حضرت بایزید بسطامی قدّس سرہ کے کلمات طیبّہ مندرجہ ذیل جو تذکرۃالاولیاء میں حضرت فرید الدین عطّار صاحب نے بھی لکھے ہیں اور دوسری معتبر کتابوں میں بھی پائے جاتے ہیں اسی بناء پر ہیں جیسا کہ فر ما تے ہیں کہ میں ہی آدم ہوں میں ہی شیث ہوں میں ہی نوح ہوں میں ہی ابراہیم ہوں میں ہی موسیٰ ہوں میں ہی عیسیٰ ہوں میں ہی محمد ہوں صلی اللہ علیہ وسلم و علیٰ اخوانہ ٖ اجمعین اور اگر چہ انہیں کلمات کی وجہ سے حضرت بایزید بسطامی ستّر مرتبہ کا فر ٹھہرا کر بُسطام سے جو اُن کے رہنے کی جگہ تھی شہر بدر کئے گئے اور میاں عبد ا لر حمٰن خلف مولوی محمد کی طرح اُن لو گو ں نے بھیؔ بایزید بُسطامی کے کا فر اور مُلحد بنانے میں سخت غلو کیا ۱؂ آل عمران:۳۲