مثیل موعود ہونے کے بارہ میں اس عاجز کا الہام حدیث اورقرآن کے ہرگز مخالف نہیں اور کتب حدیث کو مہمل اور بے کار نہیں کرتا بلکہ اُن کا مصدق اور اُن کی سچائی کو ظاہر کرنے والا ہے کیا یہ سچ نہیں کہ فرقان کریم مسیح ابنؔ مریم کافوت ہوجانا بیان کررہا ہے اوردجّال معہود کا مرجانا خود صحیح مسلم کی بعض حدیثیں ثابت کررہی ہیں پھر قرآن اور بعض حدیث میں تطبیق کرنے کے لئے بجز اس کے اور کیا راہ ہے کہ ابن مریم کے اُترنے سے اس کے کسی مثیل یا کئی مثیلوں کا اُترنا مراد لیا جاوے۔پھر جبکہ الہام بھی اسی راہ کی طرف رہنمائی کرے تو کیا وہ حدیث اور قرآن کے موافق ہوا یا مخالف ؟ اب رہا یہ امر کہ کسی نبی کا اپنے تئیں مثیل ٹھہرانا عندالشرع جا ئز ہے یا نہیں۔پس واضح ہو کہ درحقیقت اگر غور کر کے دیکھو تو جس قدر انبیاء دنیا میں بھیجے گئے ہیں وہ اسی غرض سے بھیجے گئے ہیں کہ تا لوگ اُن کے مثیل بننے کے لئے کوشش کریں اگر ہم ان کی پیروی کرنے سے اُن کے مثیل نہیں بن سکتے بلکہ ایسے خیال سے انسان کافر و مُلحد ہو جا تا ہے تو اس صورت میں انبیاء کاآنا عبث اورہمار ا اُن پر ایمان لانا بھی عبث ہے۔قرآن شریف صاف یہی ہدایت فرماتا ہے ا ورہمیں سورۂ فاتحہ اُمُّ الکتاب میں مثیل بن جانے کی امید دیتا ہے اورہمیں تاکید فرماتا ہے کہ پنج وقت تم میرے حضور میں کھڑے ہوکر اپنی نماز میں مجھ سے یہ دعامانگو کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَۙ۔ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ۱؂ یعنی اے میرے خداوند رحمن و رحیم ہمیں ایسی ہدایت بخش کہ ہم آدم صفی اللہ کے مثیل ہو جائیں شیث نبی اللہ کے مثیل بن جائیں حضرت نوح آدم ثانی کے مثیل ہوجائیں۔ ابراہیم خلیل اللہ کے مثیل ہوجائیں موسیٰ کلیم اللہ کے مثیل ہو جا ئیں۔ عیسیٰ روح اللہ کے مثیل ہو جا ئیں اور جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفی حبیب اللہ کے مثیل ہو جا ئیں اور دنیا کے ہرایک صدیق و شہید کے مثیل ہو جائیں۔ اب ہمارے علماء جو مثیل ہو نے کے دعویٰ کو کفر و الحاد خیال کر تے ہیں اور جس شخص کو الہام الٰہی کے ذریعہ سے اس ممکن الحصول مرتبہ کی بشارت دی جا وے اس کو مُلحد اور کا فر اور جہنمی ٹھہراتے ہیں۔ ۱؂ الفاتحہ: ۶،۷