اور حقارت اور ذلّت کا سیہ داغ مسلمانوں کی پیشانی سے دھویا جائے۔ اِسی کی بشارت دیکر خداوند خدا نے مجھے بھیجا اور کہا کہ بخرام کہ وقت تونزدیک رسیدو پائے محمدیاں بر منار بلند تر محکم اُفتاد۔چوتھی شاخ اس کارخانہ کی وہ مکتوبات ہیں جو حق کے طالبوں یا مخالفوں کی طرف لکھے جاتے ہیں۔ چنانچہ اب تک عرصہ مذکورہ بالا میں نوے۰۹ ہزار سے بھی کچھ زیادہ خط آئے ہوں گے جن کا جواب لکھا گیا بجز بعض خطوط کے جو فضول یا غیر ضروری سمجھے گئے اور یہ سلسلہ بھی بدستور
اس تالیف کوپڑھ کر کہیں گے کہ یہ کتاب اس شخص کی تالیف نہیں بل اعانہ علیہ قوم اٰخرون (دیکھو براہین احمدیہ کا صفحہ ۹۳۲)
قولہ سید احمد عرب جن کو میں ثقہ جانتا ہوں وہ مجھ سے بلا واسطہ بیان کرتے تھے کہ میں دو ماہ تک اُن کے پاس اُن کے معتقدین خاص کے زُمرہ میں رہا اور وقتاًً فوقتاًً بنظر تجسّس و امتحان ہر ایک وقت خاص پر حاضر رہ کر جانچا تو معلوم ہوا کہ درحقیقت اُن کے پاس آلاتِ نجوم موجود ہیں وہ اُن سے کام لیتے ہیں۔
اقول ۔ ۱ میری طرف سے درحقیقت یہی جواب ہے جو میں نے آیات رباّنی کے ذریعہ سے لکھ دیا اور مجھے ہر گز یاد نہیں کہ وہ سیّد احمد صاحب کون بزرگ تھے کہ جو دو ماہ تک میرے پاس رہے۔ اس بات کا بار ثبوت مولوی صاحب کے ذمہ ہے کہ اُن کو میرے روبرو پیش کریں تا پوچھا جائے کہ انہوں نے کن آلات کو مشاہدہ کیا تھا اور جبکہ میں ابھی تک زندہ موجود ہوں اس حالت میں مولوی صاحب دو ماہ تک آپ ہی رہ کر دیکھ لیں کسی دوسرے عربی یا عجمی کے توسط کی کیا ضرورت ہے۔
قولہ مجھے فقرات الہام پر غور کرنے سے ہر گز یقین نہیں آتا کہ وہ الہام ہیں۔