پانی کی طرح اپنے خونوں کو بہا دیا یہ دراصل ایک صادق اور کامل نبی کی صحبت میں مخلصانہ قدم سے عمر بسر کرنے کا نتیجہ تھا۔ سو اِسی بنا پر یہ عاجز اس سلسلہ کے قائم رکھنے کے لئے مامور کیا گیا ہے اور چاہتا ہے کہ صحبت میں رہنے والوں کا سِلسلہ اور بھی زیادہ وسعت سے بڑھا دیا جائے اور ایسے لوگ دن رات صحبت میں رہیں کہ جو ایمان اور محبت اور یقین کے بڑھانے کے لیے شوق رکھتے ہوں اور اُن پر وہ انوار ظاہر ہوں کہ جو اس عاجز پر ظاہر کئے گئے ہیں اور وہ ذوق اُن کو عطا ہو جو اس عاجز کو عطا کیا گیا ہے تا اسلام کی روشنی عام طور پر دنیا میں پھیل جائے اقول مجھے یاد ہے کہ بہت پُر معنی جواب دیا گیا تھا اور ایسے شخص کے لئے کہ جو کسی قدر عقل اور انصاف رکھتا ہو کافی تھا۔ مگر آپ نے نہ سمجھا اس میں کس کی پردہ دری ہے آپ کی یا کسی اور کی۔ وہی سوال کسی اخبار میںشائع کیجئے اور دوبارہ اپنی خوش فہمی کی آزمائش کرائیے۔ قولہ ہر گز یقین نہیں ہو سکتاکہ ایسی عمدہ تصانیف کے یہی حضرت مصنف ہیں۔ اقول آپ کیا یقین کریں گے یہ یقین تو اُن کفار کو بھی میسّر نہ آیا جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بچشم خود دیکھا تھا اور بباعث سخت محجوب ہونے کے کمالات نبوی اُن پر نہ کھل سکے اور یہی کہتے رہے کہ یہ بلیغ کلمات جو اس کے مُنہ سے نکلتے ہیں اور یہ قرآن جو خلق اللہ کو سُنایا جاتا ہے یہ تمام عبارتیں درحقیقت بعض اور لوگوں کی تالیف ہیں جو پوشیدہ طور پر صبح اور شام اُس کو سکھلائے جاتے ہیں اور ایک طور سے اُن کفار نے بھی سچ کہا اور مولوی صاحب کے مُنہ سے بھی سچ ہی نکلا کیونکہ بلاشبہ قرآن شریف کا کلام بلاغت اور حکمت میں آنحضرت کی طاقت ذہنی سے بہت بلند بلکہ تمام مخلوقات کی طاقت سے برترو اعلیٰ ہے اور بجُز علیم مطلق اور قادر مطلق کے اور کسی سے وہ کلام بن نہیں سکتا۔ ایسا ہی وہ کتابیں جو اس عاجز نے تالیف کر کے شائع کی ہیں درحقیقت یہ تمام غیبی مدد کا نتیجہ ہے اور اس عاجز کی استعداد اور لیاقت سے بر تر اور شکر کا مقام ہے کہ مولوی صاحب کی اس نکتہ چینی سے ایک پیشگوئی بھی جو براہین احمدیہ میں درج ہے پوری ہوئی کہ بعض لوگ