جاری ہے اور ہر ایک مہینے میں غالباً تین سو ۰۰۳ سے سات سو ۰۰۷ یا ہزار تک خطوط کی آمد ورفت کی نوبت پہنچتی ہے۔ پانچویں شاخ اس کارخانہ کی جو خدا تعالیٰ نے اپنی خاص وحی اور الہام سے قائم کی مریدوں اور بیعت کرنے والوں کا سلسلہ ہے۔ چنانچہ اُس نے اس سلسلہ کے قائم کرنے کے وقت مجھے فرمایا کہ زمین میں طوفانِ ضلالت برپا ہے تو اس طوفان کے وقت میںیہ کشتی طیار کر جو شخص اس کشتی میں سوا رہو گا وہ غرق ہونے سے نجات پا جائے گا اور جو اقول اُن لوگوں کو بھی یقین نہیں آیا تھا جن کے حق میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فرعون کو یقین نہ آیا۔ یہودیوں کے فقیہوں فریسیوں کو یقین نہ آیا۔ ابو جہل ابو لہب کو یقین نہ آیا۔ مگر اُن کو آیا جو دل کے غریب اور نفس کے پاک تھے۔ ایں سعادت بزور بازو نیست تا نہ بخشد خدائے بخشندہ قولہ مدعی ہونا کرامات کے خلاف ہے اور یہ کہنا کہ جس کو انکار ہو آکر دیکھے یہ دعاوی باطلہ ہیں۔ اقول یہ باتیں انسان کی طرف سے نہیں بلکہ اس کی طرف سے ہیں جس کو ہر ایک دعوےٰ پہنچتا ہے پھر کون حق پرست ان کو باطل کہہ سکتا ہے۔ ہاں یہ سچ ہے کہ ادّعا کسی فوق القدرت بات کا کوئی نبی بھی نہیں کر سکتا مگر کیا ایسا ادّعا بتوسط کسی نبی یا رسول یا محدّث کے خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی جائز نہیں۔ قولہ میں ملاقات کرنے سے بالکل بے عقیدہ ہوگیا ہوں میری رائے میں جو موحد اُن سے ملاقات کرے گااُن کا مُعتقد نہ رہے گا۔ نماز اُن کی اخیر وقت میں ہوتی ہے جماعت کے پابند نہیں۔ اقول مولوی صاحب کی بے عقیدگی کی تو مجھے پروا نہیں مگر اُن کے جھوٹ اور افترا اور غایت درجہ کی بد ظنیّوں پر سخت تعجب ہے۔ اے خداوند کریم اس اُمّت پر رحم کر جس کے رہنما اور