ذرہ بھی غیظ و غضب ظاہر نہیں کیا اور پھر آخر مثیل ٹھہرانے کی یہا ں تک نوبت پہنچی کہ بار بار یا احمد کے خطاب سے مخاطب کر کے ظلّی طورپر مثیل سیّد الانبیاء واماؔ م الاصفیاء حضرت مقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم قرار دیا تو کوئی ہمارے مفسروں اور محدثوں میں سے جوش و خروش میں نہیں آیا اور جب خدائے تعالیٰ نے اس عاجز کو عیسیٰ یا مثیل عیسیٰ کر کے پکارا تو سب کے شدّت طیش اور غضب کی وجہ سے چہرے سُرخ ہو گئے اور سخت درجہ کا اشتعال پیداہو کر کسی نے اس عاجز کو کافر ٹھہرادیا اور کسی نے اس عاجز کا نام مُلحد رکھا جیساکہ مولوی عبدالرحمٰن صاحب خلف مولوی محمد لکھو کے والہ نے اس عاجز کا نام مُلحد رکھا اور جابجا یہ بھی ذکر کیا کہ یہ شخص بہت خراب آدمی ہے۔ چنانچہ ایک شخص عبدالقادر نام شرقپور ضلع لاہور کے رہنے والے کے پاس بھی یہی ذکر کیا کہ یہ شخص مُلحد اور بدمذہب اور خراب اور ملاقات کے لائق نہیں۔علاوہ اس کے ان لوگوں نے اشتعال کی حالت میں اسی پر بس نہیں کی بلکہ یہ بھی چاہا کہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے بھی اس بارہ میں کوئی شہادت ملے تو بہت خوب ہو۔ چنانچہ انہوں نے غصّہ بھرے دل کے ساتھ استخارے کئے اورچونکہ قدیم سےؔ قانون قدرت خدائے تعالیٰ کا یہی ہے کہ جو شخص نفسانی تمنّا سے کسی امر غیب کا منکشف ہونا چاہتا ہے تو شیطان اُس کی تمنا میں ضرور دخل دیتا ہے بجزانبیاء اور محدثین کے کہ ان کی وحی شیطان کے دخل سے منزّہ کی جاتی ہے پس اسی وجہ سے حضرت عبدالرحمٰن صاحب اور اُن کے رفیق نیّت میاں عبدالحق غزنوی کے استخارہ پر وہ بئس القرین تُرت حاضر ہو گیا اور اُن کی زبان پرجاری کرا دیاکہ وہ شخص یعنی یہ عاجز جہنّمی ہے اور مُلحد ہے اور ایسا کافر ہے کہ ہرگز ہدایت پذیر نہیں ہو گا۔میں پوچھتاہوں کہ کیا علماء کے لئے عند الشرع یہ جائز ہے کہ کسی ایسے مسئلہ میں جوخیر القرون کے لوگ ہی اُس پر اتفاق نہ رکھتے ہوں اور صحابہ رضی اللہ عنہم کا اس پر اجماع ثابت نہ ہو ایک ایسے ملہم کی نسبت جو بعض احادیث اور قرآن کریم امکانی طور پر اُس کے صدق پر شاہد ہوں تکفیر کا فتویٰ لگا ویں یہ بات سمجھنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ