ایک اور حدیث بھی مسیح ابن مریم کے فوت ہوجانے پردلالت کرتی ہے اور وہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ قیامت کب آئے گی توآپ نے فرمایا کہ آج کی تاریخ سے سو برس تک تمام بنی آدم پر قیامت آجائے گی اور یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ سو برس کے عرصہ سے کوئی شخص زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا اِسی بناء پراکثر علماء و فقرا اسی طرف گئے ہیں کہ خضر بھی فوت ہو گیا کیونکہ مخبر صادق کے کلام میں کذب جائز نہیں مگر افسوس کہ ہمارے علماء نے اس قیامت سے بھی مسیح کو باہر رکھ لیا تعجب کہ اَور بنی اسرائیل کے انبیاء کی نسبت مسیح کو کیوں زیادہ عظمت دی جا تی ہے۔بظاہر ایسامعلوم ہوتا ہے کہ چونکہ ہمارے بھائی مسلمان کسی ایسے زمانہ سے کہ جب سے بہت سے عیسائی دین اسلامؔ میں داخل ہوئے ہوں گے اور کچھ کچھ حضرت مسیح کی نسبت اپنے مشرکانہ خیالات ساتھ لائے ہوں گے اس بے جا عظمت دینے کے عادی ہوگئے ہیں جس کو قرآن شریف تسلیم نہیں کرتا اس لئے خاص طور پر مسیح کی تعریف کے بارے میں اُن میں حد موزوں سے زیادہ غلو پایا جاتا ہے انصاف کی نظر سے دیکھنا چاہیئے کہ کتاب براہین احمدیہ میں خدا تعالیٰ نے اس عاجز کو آدم صفی اللہ کا مثیل قرار دیا اور کسی کو علماء میں سے اس بات پر ذرہ رنج دل میں نہیں گذرا اور پھر مثیل نوح قراردیا اور کوئی رنجیدہ نہیں ہوا اور پھر مثیل یوسف علیہ السلام قرار دیا اور کسی مولوی صاحب کو اس سے غصّہ نہیں آیا اور پھر مثیل حضرت داؤد بیان فرمایا اور کوئی علماء میں سے رنجیدہ خاطر نہیں ہوا۔ اور پھرمثیل موسیٰ کر کے بھی اس عاجز کو پکار ا تو کوئی فقیہوں اورمحدّثوں میں سے مشتعل نہیں ہوا یہاں تک کہ پھر اللہ تعالیٰ نے اس عاجز کو مثیل ابراہیم بھی کہا تو کسی شخص نے ایک بقیہ حاشیہ: حدیث نبوی کا یہ فقرہ کہ میں چالیس دن تک قبر میں نہیں رہ سکتا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اوّل چند روز گوکیسا ہی مقدس آدمی ہو قبر سے اور اس عالم خاکی سے ایک بڑھا ہوا تعلق رکھتا ہے۔ کوئی دینی خدمات کی زیادہ پیاس کی وجہ سے اورکوئی اَور اَور وجوہ سے اورپھر وہ تعلقؔ ایسا کم ہوجاتا ہے کہ گویا وہ صاحب قبر۔ قبر میں سے نکل جاتا ہے ورنہ رُوح تو مرنے کے بعد اُسی وقت بلا توقف آسمان پر اپنے نفسی نقطہ پر جاٹھہرتی ہے۔ منہ