داؤد علیہ السلام بوحئ الٰہی یہ فرماتے ہیں کہ تُو میری جان کو قبر میں رہنے نہیں دے گا اور تو اپنے قدوس کو سڑنے نہیں دے گا یعنی بلکہ تُو مجھے زندہ کرے گا اور اپنی طرف اُٹھا لے گا اِسی طرح شہداء کے حق میں بھی قرآن کریم فرماتا ہے
وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِىْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًاؕ بَلْ اَحْيَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُوْنَۙ ۱ یعنی جو لوگ خدائے تعالیٰ کے راہ میں قتل کئے گئے تم اُن کو مُردے نہ سمجھو بلکہ وہ تو زندہ ہیں اورانہیں اپنے رب کی طرف سے رزق مل رہا ہے۔
بقیہ حاشیہ:
کہ ہمارے سیّد ومولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبر میں زندہ ہوجانے اور پھر آسمان کی طرف اٹھائے جانیکی نسبت مسیح کے اُٹھائے جانے میں کونسی زیادتی ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ عیسیٰ بن مریم کی حیات حضرت موسیٰ کی حیات سے بھی درجہ میں کمتر ہے اور اعتقاد صحیح جس پر اتفاق سلف صالح کا ہے اور نیز معراج کی حدیث بھی اس کی شاہد ناطق ہے یہی ہے کہ انبیاء بحیات جسمی مشابہ بحیات جسمی دنیاوی زندہ ہیں اور شہداء کی نسبت اُن کی زندگی اکمل واقویٰ ہے اور سب سے زیادہ اکمل واقویٰ واشرف زندگیؔ ہمارے سیّد ومولیٰ فدا ء لہ نفسی وابی واُمّی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔ حضرت مسیح تو صرف دوسرے آسمان میں اپنے خالہ زاد بھائی اورنیز اپنے مرشد حضرت یحییٰ کے ساتھ مقیم ہیں لیکن ہمارے سیّد ومولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے اعلیٰ مرتبہ آسمان میں جس سے بڑھکر اور کوئی مرتبہ نہیں تشریف فرما ہیں عند سدرۃ المنتھٰی بالرفیق الاعلٰی اوراُمّت کے سلام وصلوات برابر آنحضرت ؐ کے حضور میں پہنچائے جاتے ہیں اللّٰھم صل علٰی سیدنا محمد وعلٰی اٰل سیدنا محمد اکثر مما صلیت علیٰ احد من انبیائک وبارک وسلم اور یہ خیال کہ انبیاء زندہ ہو کر قبر میں رہتے ہیں صحیح نہیں ہے ہاں قبر سے ایک قسم کا اُن کا تعلق باقی رہتا ہے اور اسی وجہ سے وہ کشفی طورپر اپنی اپنی قبروں میں نظر آتے ہیں مگریہ نہیں کہ وہ قبروں میںؔ ہوتے ہیں بلکہ وہ تو ملائک کی طرح آسمانوں میں جو بہشت کی زمین ہے اپنے اپنے مرتبہ کے موافق مقام رکھتے ہیں اور بیداری میں پاک دل لوگوں سے کبھی کبھی زمین پر آکر ملاقات بھی کر لیتے ہیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اکثر اولیاء سے عین بیداری کی حالت میں ملاقات کرنا کتابوں میں بھرا پڑا ہے اور مؤلف رسالہ ہذا بھی کئی دفعہ اس شرف سے مشرف ہو چکا ہے والحمد للّٰہ علیٰ ذالک۔ اور
۱ اٰل عمران:۱۷۰