کہ حضرت عیسیٰ فوت ہوچکے ہیں اور ناظرین پر واضح ہو گا کہ حضرت ابن عباس قرآن کریم کے سمجھنے میں اوّل نمبر والوں میں سے ہیں اور اِس بارے میں اُن کے حق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا بھی ہے۔
پھر اسی معالم میں لکھا ہے کہ وہب سے یہ روایت ہے کہ حضرت عیسیٰؔ تین گھنٹہ کے لئے مرگئے تھے اور محمد بن اسحاق سے روایت ہے کہ نصارٰی کا یہ گمان ہے کہ سات گھنٹہ تک مرے رہے مگر مؤلف رسالہ ہذا کو تعجب ہے کہ محمد بن اسحاق نے سات گھنٹہ تک مرنے کی نصاریٰ کی کن کتابوں سے روایت لی ہے کیونکہ تمام فرقے نصاریٰ کے اِسی قول پر متفق نظرآتے ہیں کہ تین دن تک حضرت عیسیٰ مرے رہے اور پھر قبر میں سے آسمان کی طرف اُٹھائے گئے اور چاروں انجیلوں سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے اور خود حضرت عیسیٰ انجیلوں میں اپنی تین دن کی موت کا اقرار بھی کرتے ہیں بہرحال موت اُن کی ثابت ہے اور ماسوا اِن دلائل متذکرہ کے یہود و نصاریٰ کا بالاتفاق اُن کی موت پر اجماع ہے اورتاریخی ثبوت بتواتر اُن کے مرنے پر شاہد ہے اورپہلی کتابوں میں بھی بطور پیشگوئی اُن کے مرنے کی خبر دی گئی تھی۔
اب یہ گمان کہ مرنے کے بعد پھر اُن کی روح اُسی جسم خاکی میں داخل ہو گئی اور وہ جسم زندہ ہو کر آسمان کی طرف اٹھایاگیا۔یہ سراسر غلط گمان ہے یہ بات باتفاق جمیع کتبِ الٰہیہ ثابت ہے کہ انبیاء و اولیاء مرنے کے بعدؔ پھر زندہ ہوجایا کرتے ہیں یعنی ایک قسم کی زندگی انہیں عطا کی جاتی ہے جو دوسروں کو نہیں عطاکی جاتی۔اِسی طرف و ہ حدیث اشارہ کرتی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ مجھے قبر میں میّت رہنے نہیں دے گا۔* اور زندہ کرؔ کے اپنی طرف اُٹھالے گا اور زبور نمبر ۱۶ میں بھی حضرت
* حاشیہ: اصل ترجمہ حدیث کا یہ ہے کہ میری عزت خدائے تعالیٰ کی جناب میں اس سے زیادہ ہے کہ مجھے چالیس دن تک قبر میں رکھے یعنی میں اس مدت کے اندر اندر زندہ ہو کر آسمان کی طرف اُٹھایا جاؤں گا۔ اب دیکھنا چاہیئے