ہیں کہ اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ اِنِّیْ مُمِیْتُکَ یعنی میں تجھ کو مارنے والا ہوں اس پر دوسرے اقوال اللہ تعالیٰ کے دلالت کرنے ہیں
قُلْ يَتَوَفّٰٮكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ ۳ ۔
الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰٮهُمُ الْمَلٰۤٮِٕكَةُ طَيِّبِيْنَ۴ ۔
الَّذِيْنَ تَتَوَفّٰٮهُمُ الْمَلٰۤٮِٕكَةُ ظَالِمِىْۤ اَنْفُسِهِمْ ۵ ۙ
غرض حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اعتقاد یہی تھا
*حاشیہ۔ قرآن شریف میں اول سے آخر تک جس جس جگہ توفّی کا لفظ آیا ہے اُن تمام مقامات میں توفّی کے معنے موت ہی لئے گئے ہیں۔ منہ
۱ المائدۃ : ۱۱۸ ۲ اٰل عمران : ۵۶ ۳ السجدۃ : ۱۲ ۴ النّحل :۳۳ ۵ النّحل : ۲۹