کہ اس تبلیغ کے بارہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کو ئی تا کید نہیں ہوئی اور نہ صحابہ کبار رضی اللہ عنہم اس کو تابعین تک پہنچانے کے لئے اپنے مجموعی جوش سے متوجہ ہوئے اور یہاں تک مضمون اس حدیث کا نادر اور قلیل الشہرت رہا کہ امام بخاری جیسے رئیس المحدثین کو یہ حدیث نہیں ملی کہ مسیح ابن مریم دمشق کے شرقی کنارہ میں منارہ کے پاس اُترے گا اور جتنے خدائے تعالیٰ سے کام دنیا میں ہورہے ہیں وہ سب دجّال دکھاوے گا۔ اب خیال کرنا چاہیئے کہ اس حدیث کے مضمون پراجماع کا دعویٰ کرنا اور یہ کہنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے آج تک اسی پر اتفاق اکابراسلام رہا ہے کس قدرافترا ہے بلکہ یہ حدیث تو اُن متواتر حدیثوں سے ہی کالعدم ہوجاتی ہے جن میں بروایت ثقات صحابہ دَجَّال کی نسبت یہ فیصلہ کردیا گیا ہے کہ وہ درحقیقت ابن صَیَّاد ہی تھا جو یزید پلید کے عہد سلطنت میں مدینہ منوّرہ میں فوت ہو گیا اور اُس کے جنازہ کی نماز پڑھی گئی۔
یہ ایک عجیب بات ہے کہ قرآن شریف توؔ بآواز بلند مسیح ابن مریم کا فوت ہوجا نا بیان کر رہا ہے اور احادیث صحیحہ مسلم و بخاری باتفاق ظاہر کر رہی ہیں کہ دراصل ابن صیّاد ہی دجّال معہود تھا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسے بزرگ صحابی روبرو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خدائے تعالیٰ کی قسم کھا رہے ہیں کہ درحقیقت دجّال معہود ابن صیّاد ہیؔ ہے اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کی تصدیق کررہے ہیں کہ درحقیقت ابن صیّاد ہی دجا ل معہود ہے جو انجام کار