اب سوچنا چاہیئے کہ یہ بیان کہ صحابہ کرام کا دجّال معہود اور مسیح ابن مریم کے آخری زمانہ میں ظہور فرمانے کا ایک اجماعی اعتقاد تھا کس قدر اُن بزگوں پر تہمت ہے۔
پھر یہ بھی سوچنا چاہیئے کہ اگر یہ بات سچ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہریک نبی اپنی قو م کو دجّال کے نکلنے سے ڈراتاآیا ہے اور میں بھی تم سب کو ڈراتا ہوں کہ دجّال آخری زمانہ میں نکلے گا تو چاہیئے تھا کہ اس نصیحت اور تبلیغ کو تمام صحابہ اپنے نفس پر ایک واجب التبلیغ سمجھ کر تا بعین تک پہنچاتے اور آج ہزارہا صحا بہ کی روایتوں سے یہ حدیث بخاری اور مسلم میں موجود ہوتی حالا نکہ بجُز نواس بن سَمعان اور ایک دو اور آدمیوں کے کسی نے اس حدیث کی روایت نہیں کی بلکہ نواس بن سمعان اپنی تمام روایت میں منفرد ہے۔ اب سو چو کہ ایک طرف تو یہ بتلایا جا تا ہے کہ اس حدیث کےؔ بارہ میں عام طور پر تمام صحابہ کو تاکید ہوئی تھی کہ تم نے اس مضمون کو تابعین تک پہنچادینا اور دوسری طرف جب ہم دیکھتے ہیں تو بجُز ایک دو آدمیوں کے کوئی پہنچانے والا نظر نہیں آتا۔ اِس صورت میں جس قدر ضعف اِس حدیث میں پایا جا تا ہے وہ محققین کی نظر سے پو شیدہ نہیں رہ سکتا۔ پھر تواتر کا دعویٰ کر نا اگر پر لے درجہ کا تعصّب نہیں تو اور کیا ہے؟
اب اے لوگو!خدائے تعالیٰ سے ڈرو اور صحابہ اور تابعین پر تہمت مت لگاؤ کہ اُن سب کو اس مسئلہ پر اجماع تھا کہ مسیح ابن مریم آسمان سے اُتریں گے اور دَجَّال یک چشم خدائی کے کرشمے دکھا نے والے کو قتل کریں گے۔اُن بزرگوں کو تو اس اعتقاد کی خبر بھی نہیں تھی اگر انہیں خبر ہوتی اور جیسا کہ بعض حدیثوں میں لکھا ہے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وصیت فرما ئی ہو تی تو کیا ممکن تھا کہ صحابہ رضی اللہ عنھم اس واجب التبلیغ امر کو تابعین تک نہ پہنچاتے اور پھر تابعین تبع تابعین کو اس کی خبر نہ کر تے۔ صاف ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت پر عمل نہ کر نا سخت معصیت میں داخل ہے پھر کیوں کر ممکن تھا کہ ایسا معصیت کاؔ کام اکابر صحابہ رضی اللہ عنھم سے سرزد ہو تا پس صاف ظاہر ہے