وہ قتل کریں اور یہی ایک خدمت تھی جو اُن کے سپرد کی گئی تھی۔اس سوال کا جواب ہم بجُز اِس صورت کے اور کسی طور سے دے نہیں سکتے کہ آخری زمانہ میں دجّال معہود کا آنا سراسر غلط ہے۔ اب حاصل کلام یہ ہے کہ وہ دمشقی حدیث جو امام مسلم نے پیش کی ہے خود مسلم کی دوسری حدیث سے ساقط الاعتبار ٹھہرتی ہے اور صریح ثابت ہوتا ہے کہ نواس راوی نے اس حدیث کے بیان کرنے میں دھوکہ کھایا ہے یہ فرض صاحب مسلم کے سر پر تھا کہ وہ اپنی ذکر کر دہ حدیث کا تعارض اپنی قلم سے رفع کرتے مگر انہوں نے جو ایسے تعارض کا ذکر تک نہیں کیا تو اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہؔ وُہ محمد بن المنکدر کی حدیث کو نہایت قطعی اور یقینی اور صاف اور صریح سمجھتے تھے اور نواس بن سمعان کی حدیث کو از قبیل استعا رات و کنا یا ت خیال کر تے تھے اور اُس کی حقیقت حوالہ بخدا کر تے تھے۔
غرض اے بھائیو!اِن حدیثوں پر نظرڈال کر ہریک آدمی سمجھ سکتا ہے کہ کبھی صدر اوّل کے لوگوں نے دجّال معہود کے بارہ میں ہرگز اس بات پر اتفاق نہیں کیا کہ وہ آخری زمانہ میں آئے گا اور مسیح ابن مریم ظہور فرما کر اُس کو قتل کرے گا بلکہ وہ تو ابن صیّاد کو ہی دجّال معہود سمجھتے رہے اور یہ بات خود ظاہر ہے کہ جب انہوں نے ابن صیّاد کو دجّال معہود یقین کیا اور پھر یہ بھی اپنی زندگی میں دیکھ لیا کہ وہ مشرف باسلام ہو گیا اور پھر یہ بھی دیکھ لیا کہ وہ مدینہ منورہ میں فوت بھی ہوگیا اور مسلمانوں نے اس کے جنازہ کی نماز پڑھی پھر ایسی صورت میں اُ ن بزرگوں کا اس بات پر کیوں کر ایمان یا اعتقاد ہو سکتا تھا کہ مسیح ابن مریم آخری زمانہ میں دجّال معہود کے قتل کرنے کے لئے آسمان سے اُتر یں گے کیونکہ وہ بزرگوار لوگ تو پہلے ہی دجّال معہود کا فوت ہو جا نا تسلیم کر چکے تھے پھر اس اعتقاد کے ساتھ یہ دوسرا اعتقاد کیوں کر جوڑؔ کھا سکتا ہے کہ اُن کو مسیح ابن مریم کے آسمان سے اُترنے اور دجّال معہود کے قتل کرنے کی انتظار لگی ہوئی تھی یہ تو صریح اجتماع ضدَّین ہے اور کوئی دانشمند اور قائم الحواس آدمی ایسے دو متضاد اعتقاد ہر گز نہیں رکھ سکتا۔