حضور میں قسم کھا کر کہا تھا کہ دجّال معہود یہی ابن صیّاد ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چُپ رہنے اورانکار نہ کرنے کی وجہ سے اُس قسم پر مہر لگا دی اور حضرت عمر کے خیال سے اپنا اتفاق رائے کردیا۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ کا درجہ جانتے ہو کہ صحابہ میں کس قدر بڑاہے یہاؔ ں تک کہ بعض اوقات ان کی رائے کے موافق قرآن شریف نازل ہو جایا کر تا تھا اور اُن کے حق میں یہ حدیث ہے کہ شیطان عمر کے سایہ سے بھاگتا ہے دوسری یہ حدیث ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔ تیسری یہ حدیث ہے کہ پہلی اُمتوں میں محدّث ہو تے رہے ہیں اگر اس اُمّت میں کوئی محدّث ہے تو وہ عمرہے۔ اب سوچو اور خیال کرو کہ نَواس بن سَمعَان کو پایہ عالیہ عمر سے کیا مناسبت ہے؟جو فہم قرآن اور حدیث کا حضرت عمر کو دیاگیا تھا اُس سے نواس کو کیانسبت ہے؟ما سوااس کے یہ حدیث متفق علیہ ہے جو بخاری اور مسلم دونوں نے لکھی ہے اور نواس کی دمشقی حدیث جس میں دجّال کی تعریفیں خلاف عقل و خلاف تو حید درج ہیں صرف مسلم میں لکھی گئی ہے ماسوائے اس کے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قسم کھانا اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کاکچھ انکار نہ کرنا اس بات کا فیصلہ دیتا ہے کہ ضرور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں اور نیز صحابہ کرام کی نگاہ میں دجّال معہود ابن صیّاد ہی تھا اور حدیث شرح السنہ سے بھی یہی ثابت ہو تا ہے کہ ہمیشہ اور مدّ ت العمر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اُمّت پر اسی بات سے ہراساں تھے کہ اؔ بن صَیَّاد دَجَّال معہود ہے اب جبکہ ابن صَیَّاد کا دجّال معہود ہو نا ایسے قطعی اور یقینی طور سے ثابت ہو گیا کہ اِس میں کسی طور کے شک و شبہ کو راہ نہیں تو اس جگہ بالطبع یہ سوال پیدا ہو تا ہے کہ جبکہ دجّال خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پیدا ہو کر اور مشرف باسلام ہو کر اور آخر مدینہ میں فوت بھی ہو گیا تو حضرت مسیح کے ہاتھ سے جن کے آنے کی علّت غائی دَجَّال کا مار نا ظاہر کیا جا تا ہے کون قتل کیا جا ئے گا کیونکہ دجّال تو موجود ہی نہیں جن کو