اور یہودیوں کی تاریخ پر نظر ڈالنے والے خوب جانتے ہیں مگر آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی جماعت نے اپنے رسول مقبول کی راہ میں ایسا اتحاد اور ایسی روحانی یگانگت پیدا کر لی تھی کہ اسلامی اخوت کی رُو سے سچ مچ عضو واحد کی طرح ہو گئی تھی اور اُن کے روزانہ برتاﺅ اور زندگی اور ظاہر و باطن میں انوارِ نبوّت ایسے رَچ گئے تھے کہ گویا وہ سب آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی عکسی تصویریں تھے۔ سو یہ بھاری معجزہ اندرونی تبدیلی کا جس کے ذریعہ فحش بُت پرستی کرنے والے کامل خدا پرستی تک پہنچ گئے اور ہر دم دنیا میں غرق رہنے والے محبوب حقیقی سے ایسا تعلق پکڑ گئے کہ اس کی راہ میں
خدا تعالیٰ کی مدد اور رحمت سے آپ کے مقابل پر تقریر کرنے کو بھی حاضر ہوں۔ میں بباعث بیماری اب کوئی سفر دور دراز تو نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر آپ راضی ہوں تو اپنے کرایہ سے لاہور جیسے پنجاب کے صدر مقام میں آپ کو اس کام اور اس امتحان کے لئے تکلیف دے سکتا ہوں اور یہ عہد پختہ عزم سے کرتا ہوں ؟ اور آپ کے جواب کامنتظر ہوں۔
قولہ یہ شخص محض نالائق ہے علمی لیاقت نہیں رکھتا۔
اقول اے حضرت مجھے دنیا کی کسی حکمت اور دانائی کا دعویٰ نہیں۔ اس جہان کی دانائیوں اور چالاکیوں کو میں کیا کروں کہ وہ روح کو منور نہیں کر سکتیں۔ اندرونی غلاظتوں کو وہ دھو نہیں سکتیں۔ عجز اور خاکساری کو پیدا نہیں کر سکتیں بلکہ زنگ پر زنگ چڑ ھاتی اور کفر پر کفر بڑھاتی ہیں۔میرے لئے یہ بس ہے کہ عنایت الٰہی نے میری دستگیری کی اور وہ علم بخشا کہ مدارس سے نہیں بلکہ آسمانی معلّم سے ملتا ہے۔ اگر مجھے اُمّی کہا جائے تو اس میں میری کیا کسر شان ہے بلکہ جائے فخر۔کیونکہ میرا اور تمام خلق اللہ کا مقتدا جو عامہ خلائق کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا وہ بھی اُمّی ہی تھا۔ میں اس کھوپڑی کو ہرگز قدر کے لائق نہیں سمجھو ں گا جس میں علم کا گھمنڈ ہے مگر اس کا ظاہر و باطن تاریکی سے بھرا ہوا ہے۔ قرآن شریف کو کھول کر گدھے کی مثال پر غور کرو کیا یہ کافی نہیں؟
قولہ میں نے الہام کے بارے میں اس سے چند سوال کئے کسی قدر بے معنی جواب دیکر سکوت اختیار کیا۔