ملک الموت کی ٹانگ توڑ دی تھی اس غصّہ سے کہ وہ بلا اجازت آپ کے کسی مُرید کی روح نکال کر لے گیا تھا تو اِن کراماتوں کو ہرگز قبول نہیں کریں گے بلکہ ایسی مناجاتوں کے پڑھنے والوں کو مشرک بنائیں گے لیکن دجّال ملعون کی نسبت کھلے کھلے طور پر یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ ملک الموت کیا تمام ملائک اورسارے فرشتے زمین وآسمان کے جو آفتاب اور ماہتاب اوربادلوں اور ہواؤں اوردریاؤں وغیرہ پر مؤکل ہیں سب اس کے حکم کے تابع ہوجائیں گے اوربکمال اطاعت اُس کے آگےؔ سجدہ میں گریں گے۔ سوچنا چاہیئے کہ یہ کتنا بڑاشرک ہے کچھ انتہاء بھی ہے ؟ افسوس کہ اِن لوگوں کے دلوں پر کیسے پردے پڑگئے کہ انہوں نے استعارات کو حقیقت پر حمل کر کے ایک طوفان شرک کا برپا کردیا ہے اورباوجود قرائن قویہ کے ان استعارات کو قبول کرنا نہ چاہا جن کی حمایت میں قرآن کریم شمشیربرہنہ توحید کی لے کر کھڑاہے۔
افسو س کہ اکثر لوگ خشک مُلّاؤں کی پیروی کرتے ہیں اور نہیں جانتے کہ ایسے مضامین کو ظاہر پر حمل کرنے سے کیا کیا خرابیاں پھیلیں گی وہ رسول کریم (مادر و پدرم فدائے اوباد ) جس نے ہمیں لَااِلٰہ اِلّا اللّٰہ سکھلا کر تما م غیراللہ کی طاقتیں ہمارے پَیروں کے نیچے رکھ دیں اور ایک زبردست معبود کا دامن پکڑا کر ہماری نظر میں ماسواکا قدر ایک مرے ہوئے کیڑے سے بھی کمتر کر دیا کیا وہ مقدّس نبی ہمارے ڈرانے کو آخری زمانہ کے لئے یہ ھوّا چھوڑ گیا۔پھر میں کہتا ہوں کہ وہ موحّدوں کا بادشاہ جس نے ہمارے رگ و ریشہ میں ہمیشہ کے لئے یہ دھنسادیا کہ الٰہی طاقتیں کسی مخلوق میں آہی نہیں سکتیں کیا و ہ اپنی متواتر تعلیموں کے برخلاف ہمیں ایسا سبق دینے لگا ۔ سو اے بھائیو یقینًا سمجھو کہ اس حدیث اور ایساہی اس کی امثالؔ کے ظاہری معنے ہرگزمراد نہیں ہیں۔ اور قرائن قویہ ایک شمشیر برہنہ لے کر اس کوچہ کی طرف جانے سے روک رہے ہیں۔بلکہ یہ تمام حدیث اُن مکاشفات کی قسم میں سے ہے جن کا لفظ تعبیر کے لائق ہوتا ہے جیسا کہ