فلاں ملک کی طرف چلے جاؤ تو فی الفور چلے جائیں گے زمین کے بخارات اس کے حکم سے آسمان کی طرف اُٹھیں گے اورؔ زمین گو کیسی ہی کلّر وشور ہو فقط اُس کے اشارہ سے عمدہ اور اوّل درجہ کی زراعت پیداکرے گی غرض جیسا کہ خدائے تعالیٰ کی یہ شان ہے کہ
۱اِنَّمَاۤ اَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیْـًٔـا اَنْ يَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ
اِسی طرح وہ بھی كُنْ فَيَكُوْنُ سے سب کچھ کردکھائے گا۔ مارنا زندہ کرنا اُس کے اختیار میں ہو گا بہشت اور دوزخ اُس کے ساتھ ہوں گے غرض زمین اور آسمان دونوں اُس کی مُٹھی میں آجائیں گے اور ایک عرصہ تک جو چالیس برس یا چالیس دن ہیں بخوبی خدائی کا کام چلائے گا اور الوہیت کے تمام اختیار و اقتداراُس سے ظاہرہوں گے۔
اب میں پوچھتا ہوں کہ کیا یہ مضمون جو اس حدیث کے ظاہر لفظوں سے نکلتا ہے اس موحدانہ تعلیم کے موافق و مطابق ہے جو قرآن شریف ہمیں دیتا ہے کیاصدہا آیات قرآنی ہمیشہ کے لئے یہ فیصلہ ناطق نہیں سُناتیں کہ کسی زمانہ میں بھی خدائی کے اختیارات انسان ہالکۃ الذات باطلۃ الحقیقت کو حاصل نہیں ہو سکتے۔ کیا یہ مضمون اگر ظاہر پر حمل کیا جائے تو قرآنی توحید پر ایک سیاہ دَھبّہ نہیں لگاتا ؟ تعجب کہ ایک طرف ہمارے بھائی موحدین اس بات کی شیخی مارتے ہیں کہ ہم نے شرک سے بکلّی کنارہ کیا ہے اور دوسرے لوگؔ مشرک اور بدعتی اور ہم موحّد اور متبع سُنت ہیں اور ہرایک کے آگے بکمال فخر اپنے اس موحّدانہ طریق کی ستائش اور تعریف بھی کرتے ہیں پھر ایسے پُر شرک اعتقادات اُن کے دلوں میں جمے ہوئے ہیں کہ ایک کافر حقیر کو الوہیت کا تمام تخت و تا ج سپرد کررکھا ہے اور ایک انسان ضعیف البنیان کو اپنی عظمتوں اور قدرتوں میں خدائے تعالیٰ کے برابر سمجھ لیا ہے۔اولیاء کی کرامات سے منکر ہو بیٹھے مگر دجّال کی کرامات کا کلمہ پڑھ رہے ہیں اگر ایک شخص اُنہیں کہے کہ سیّد عبدالقادر جیلانی قدس سرّہٗ نے باراں برس کے بعد کشتی غرق ہوئی ہوئی زندہ آدمیوں سے بھری ہوئی نکالی تھی اور ایک دفعہ
۱ یٰسٓ: ۸۳