میں ایک دوسری مسلم کی حدیث لکھ کر ابھی ثابت کرآیا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود اقرار اس بات کا فرماتے ہیں کہ یہ سب بیانات میرے مکاشفات میں سے ہیں اور اِس دمشقی حدیث میں بھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کانّی کا لفظ موجود ہے وہ بھی بآواز بلند پکار رہا ہے کہ یہ سب باتیں عالم رؤیا اور کشف میں سے ہیں جن کی مناسب طور پر تاویل ہونی چاہیئے چنانچہ مُلّاعلی قاری نے بھی یہی لکھا ہے اور خدائے تعالیٰ کا قانونِ قدرت جو موافق آیت کریمہ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِيْفًا ۱؂ انسان کی کمزوری پر شاہد ناطق ہے کسی آدم زادکے لئے ایسی قوت و طاقت تسلیم نہیں کرتا کہ وہ ہواکی طرح ایک دم میں مشارق و مغارب کا سَیر کرسکے اور آسمان کے سب اجرام اور زمین کے سب ذرّات اُس کے تابع ہوں۔تعجب کہ جب خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہؔ مضمون اِس حدیث کا از قبیل کشوف و رؤیا صالحہ ہے یعنی قابل تعبیر ہے تو پھر کیوں خواہ نخواہ اس کے ظاہر معنوں پر زور ڈالا جاتا ہے اور کیوں خوابوں کی طرح اس کی تعبیرنہیں کی جاتی؟ یا کشوف متشابہ کی طرح اس کی حقیقت حوالہ بخدا نہیں کی جاتی ؟زکریا کی کتاب کو دیکھو جو ملاکی سے پہلے ہے کہ کس قدر اس میں اِسی قسم کے مکاشفات لکھے ہیں مگر کوئی دانشمند اُن کو ظاہر پر حمل نہیں کرتا۔ ایساہی حضرت یعقوب کا خدائے تعالیٰ سے کشتی کرنا جو توریت میں لکھا ہے کوئی عقلمند اس کشف کو حقیقی معنی پرحمل نہیں کرسکتا۔ سو اے بھائیو ! میں محض نصیحتًا للّٰہ پوری ہمدردی کے جوش سے جو مجھے آپ سے اور اپنے پیارے دین اسلام سے ہے آپ لوگوں کو سمجھاتا ہوں کہ آپ لوگ غلطی کررہے ہیں اور سخت غلطی کررہے ہیں کہ محض تحکم کی وجہ سے مکاشفات نبویہ کو صرف ظاہری الفاظ پرمحدود خیال کر بیٹھے ہیں یقینًا سمجھو کہ ان باتوں کو حقیقت پر حمل کرنا گویا اپنی ایمانی عمارت کی اینٹیں اُکھیڑنا ہے۔ مَیں متعجب ہوں کہ اگر آپ استعارات کو قبول نہیں کر سکتے توکیوں ان امور برتراز فہم کی تفسیر کو حوالہ بخدا نہیں کرؔ تے اس میں آپ کا ۱؂ النّساء:۲۹