اور صاحب اولاد ہونا اورمکہ اورمدینہ میں جانا بوضاحت تمام لکھا ہے اور نہ صرف یہی بلکہ انہی حدیثوں میں یہ بھی لکھا ہے کہ ابن صیّاد مدینہ منوّرہ میں فوت ہوگیااور اس پر نماز پڑھی گئی۔ اب ہریک منصف بنظر انصاف دیکھ سکتا ہے کہ جن کتابوں میں دجّال کے آخری زمانہ میں ظاہر ہونے اور حضرت عیسیٰ کے ہاتھ سے مارے جانے کی خبر لکھی ہے انہیں کتابوں میں یہ بھی لکھا ہوا موجو دؔ ہے کہ دجّال معہود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہی ظاہر ہو گیا تھا اور مشرف باسلام ہوکر فوت ہوگیا تھااور اس کا مشر ف باسلام ہونا بھی ازرو اس پیشگوئی کے ضروری تھا جو بخاری اور مسلم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بہ پیرایہ ایک خواب کے بیان ہو چکی ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کو عالم رؤیا میں خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا تھا بہرحال جبکہ انہیں حدیثوں میں دجّال معہود کا اس طرح پر فیصلہ کیا گیا ہے تو پھر دوسری حدیثوں پر جو اُن کی ضدّ واقع ہیں کیوں کر اعتبار کیا جائے ہاں اگر علماء اِن حدیثوں کو صحیح بخاری اور صحیح مسلم اور دوسری صحاح سے موضوع ٹھہرا کر خارج کر دیں تو البتہ اُن کے دعویٰ کے لئے ایک بنیاد پیداہو سکتی ہے ورنہ اذا تعارضا تساقطا پر عمل کر کے دونوں قسم کی حدیثوں کو ساقط ازاعتبار کرنا چاہیئے اور اس مقام میں زیادہ تر تعجب کی یہ جگہ ہے کہ امام مسلم صاحب تو یہ لکھتے ہیں کہ دجّال معہود کی پیشانی پر ک ف ر لکھا ہواہو گا مگر یہ دجّال تو انہیں کی حدیث کی رُو سے مشرف باسلام ہوگیا پھرمسلم صاحب لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہےؔ کہ دجا ل معہود بادل کی طرح جس کے پیچھے ہواہوتی ہے مشرق مغرب میں پھر جائے گا مگر یہ دجّال تو جب مکہ سے مدینہ کی طرف گیا تو ابی سعید سے کچھ زیادہ نہیں چل سکا جیساکہ مسلم کی حدیث سے ظاہر ہے۔ایسا ہی کسی نے اس کی پیشانی پر ک ف ر لکھا ہوا نہیں دیکھا۔اگر ابن صیاد کی پیشانی پر ک ف ر لکھا ہوا ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس کے قتل کرنے سے کیوں منع کرتے اورکیوں فرماتے کہ ہمیں اس کے حال میں ابھی تک