اشتباہ ہے اگر یہی دجّال معہود ہے تو اس کا صاحب عیسیٰ بن مریم ہے جو اسے قتل کرے گا ہم اس کو قتل نہیں کر سکتے تعجب تو یہ ہے کہ اگر ابن صیّاد کی پیشانی پر ک ف ر لکھا ہوا نہیں تھا تو اس پر شک کرنے کی کیا وجہ تھی اور اگر لکھاہوا تھا تو پھر اس کو دجّال معہود یقین نہ کرنے کا کیا سبب تھا۔ لیکن دوسری حدیثوں سے ظاہر ہے کہ بالآخر اُس پر یقین کیا گیا کہ یہی دجّال معہود ہے۔ چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے قسمیں کھا کر کہا کہ ہمیں اب اِس میں شک نہیں کہ یہی دجّال معہود ہے اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی آخرکار یقین کرلیا مگر یہ غورکرنے کا مقام ہے کہ اگر یہ حدیث صحیح ہے کہ دجا ل کی پیشانی پر ک ف ر لکھا ہوا ہو گا تو پھر اوائل دنوں میں ابن صیّاد کیؔ نسبت خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کیوں شک اور تردّد میں رہے اور کیوں یہ فرمایا کہ شاید یہی دجّال معہود ہو اوریا شاید کوئی اَورہو۔گمان کیا جاتا ہے کہ شاید اُس وقت تک ک ف ر اس کی پیشانی پر نہیں ہو گا۔میں سخت متعجب اور حیران ہوں کہ اگر سچ مچ دجّال معہود آخری زمانہ میں پیداہونا تھا یعنی اُس زمانہ میں کہ جب مسیح بن مریم ہی آسمان سے اُتریں تو پھر قبل از وقت یہ شکوک اور شبہات پیدا ہی کیوں ہوئے اور زیادہ تر عجیب یہ کہ ابن صیّاد نے کوئی ایسا کام بھی نہیں دکھایا کہ جو دجّال معہود کی نشانیوں میں سے سمجھا جاتا یعنی یہ کہ بہشت اور دوزخ کا ساتھ ہونا اور خزانوں کا پیچھے پیچھے چلنا اور مُردوں کا زندہ کرنا اوراپنے حکم سے مینہ کو برسانا اورکھیتوں کو اُگانا اور ستر باع کے گدھے پر سوار ہونا۔ اب بڑی مشکلات یہ درپیش آتی ہیں کہ اگر ہم بخاری اورمسلم کی اُن حدیثوں کو صحیح سمجھیں جو دجّال کو آخری زمانہ میں اُتار رہی ہیں تو یہ حدیثیں اُن کی موضوع ٹھہرتی ہیں اوراگر اِن حدیثوں کو صحیح قرار دیں تو پھر اُن کا موضو ع ہونا ماننا پڑتا ہے اگر یہ متعارض و متناقض حدیثیں صحیحین میں نہ ہوتیں صرف دوسری صحیحوں میں ہوتیں توشائد ہم اِن دونوؔ ں کتابوں کی زیادہ تر پاس خاطر کرکے اُن دوسری حدیثوں کو موضوع قرار دیتے مگر اب مشکل تو یہ آپڑی ہے کہ اِنہیں دونوں کتابوں میں یہ دونوں قسموں کی حدیثیں موجودہیں۔