قسمیں کھا کر کہا کہ یہی دجّال معہود ہے تو کیا اس کے دجّال معہود ہونے میں کچھ شک رہ گیا ہے۔اب ابن صیّاد کا حال سنیے کہ اس کا انجام کیا ہوا سو یہ مسلم کی حدیث سے واضح ہوتا ہے اور وہ یہ ہے وعن ابی سعید الخدری قال صحبت ابن صیّاد الٰی مکّۃ فقال لی ما لقیت من الناس یزعمون انّی الدجال الست سمعت رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول انہٗ لا یُوْلَدُ لہ وقد ولد لی الیس قد قال وھو کافر وانا مسلم اولیس قد قال لا یدخل المدینۃ ولامکّۃ وقد اقبلت من المدینۃ وانا ارید مکّۃ۔*اورابو سعید خدری سے روایت ہے کہ میں نے بہمراہی ابن صیّاد کے بعزم مکہ سفر کیا۔ تب اُس سفر میں ابن صیّاد نے مجھ کو کہا کہ لوگوں کی یعنی صحابہ رضی اللہ عنہم کی ان باتوں سے مجھے بہت ایذا پہنچتا ہے کہ وہ خیال کرتے ہیں کہ دجّال معہود میں ہی ہوں اور تم جانتے ہو کہ اصل حقیقت اس کے برخلاف ہے تو نے سُنا ہو گا کہ رسول اللہ صلی ؔ اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ دجّال لاولد رہے گا اور میں صاحب اولاد ہوں اور نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھا کہ دجّال کافر ہو گا اور میں مسلمان ہوں اور فرمایاتھا کہ دجّال مدینہ اور مکّہ میں داخل نہیں ہو سکے گا۔اور میں مدینہ سے توآیا ہوں اور مکّہ کی طرف چلا جاتا ہوں۔
اب دیکھنا چاہئے کہ یہ کیسا عجیب معاملہ ہے کہ بعض صحابہ قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ ابن صیّاد ہی دجّال ہے اور صحیحین میں بروایت جابرلکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ کے قسم کھانے پر کہ دجّال معہود یہی شخص ہے خاموشی اختیار کرکے اپنی رائے ظاہرکردی کہ درحقیقت دجّال معہود ابن صیّاد ہی تھا اور صحیح مسلم میں ابن صیّاد کا مشرف باسلام ہونا
* حاشیہ۔ ابنؔ صیّاد کا یہ بیان کہ لوگ مجھے دجّال معہود سمجھتے ہیں صاف دلیل اس بات پر ہے کہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہ اس کو دجّال معہود سمجھتے تھے نہ کوئی اور دجال۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا اسی بات پر اجماع ہوگیا تھا کہ ابن صیّاد ہی دجّال معہود ہے۔ منہ