امام محمد اسمٰعیل بخاری نے چھوڑدیا ہے اس جگہ حیرانی کا یہ مقام ہے کہ جو کچھ دجّال کے حالات و صفات اس حدیث میں لکھے گئے ہیں اور جس طرز سے اُس کے آنے کی خبر بتائی گئی ہے یہ بیان دوسری حدیثوں کے بیان سے بالکل منافی اور مبائن اور مخالف پایا جاتا ہے کیونکہ صحیحین میں یہ حدیث بھی ہے وعن محمد بن المنکدر قال رأیت جابر ابن عبداللّٰہ یَحلف باللّٰہ ان ابن صیّاد الدجال قلت تحلف باللّٰہ قال انی سمعت عمریحلف علٰی ذلک عند النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فلم ینکرہ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم متفق علیہ اور ایک دوسری حدیث یہ بھی ہے عن نافع قال کان ابن عمر یقول واللّٰہ ما اشک ان المسیح الدجّال ابن صیّاد رواہ ابوداؤد والبیھقی فی کتاب البعث والنشور۔
پہلی ؔ حدیث کا ترجمہ یہ ہے کہ محمد بن منکدر تابعی سے روایت ہے کہ کہا کہ میں نے جابربن عبداللہ کو دیکھا کہ خدائے تعالیٰ کی قسم کھاتا تھا کہ ابن صیّاد ہی دجّال معہود ہے اور محمد بن منکدر کہتا ہے کہ میں نے جابر کو کہا کہ کیاتو خدائے تعالیٰ کی قسم کھاتا ہے یعنی یہ امر تو ظّنی ہے نہ یقینی پھر قسم کیوں کھاتا ہے۔جابرنے کہا کہ میں نے عمر کو بحضور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی بارہ میں قسم کھاتے سُنا یعنی عمر رضی اللہ عنہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے رُوبروقسم کھا کر کہا کرتا تھا کہ ابن صیّاد ہی دجّال معہودہے۔پھردوسری حدیث کا ترجمہ یہ ہے کہ نافع سے روایت ہے کہ ابن عمرؓ کہتے تھے کہ مجھے قسم ہے اللہ کی کہ میں ابن صیّاد کے مسیح دجّال ہونے میں شک نہیں کرتا۔پھرایک اور حدیث میں جو شرح السنہ میں لکھی ہے یہ فقرہ درج ہے لم یزل رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مشفقًا انہ ھو دجّال یعنی ہمیشہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم اس خوف میں تھے کہ ابن صیّاد، دجّال ہوگا یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمیشہ گمان غالب یہی رہا کہ ابن صیّاد ہی دجّال ہے۔ اب جبکہ خاص صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے بیان سے ثابت ہو گیا ابن صیّاد ہی دجّالؔ معہود ہے بلکہ صحابہ نے