تب وہ شخص زندہ ہو کرایک روشن اور چمکتے ہوئے چہرہ کے ساتھ اس کے سامنے آ جائے گا اور اس کی الوہیّت سے انکارکرے گا سو دجّال اِسی قسم کی گمراہ کرنے کی کوشش میں لگا ہواہو گا کہ ناگہاں مسیح بن مریم ظاہر ہو جائے گا اور وہ ایک منارہ سفید کے پاس دمشق کے شرقی طرف اُترے گا مگر ابن ماجہ کا قول ہے کہ وہ بیت المقدس میں اُترے گا اور بعض کہتے ہیں کہ نہ بیت المقدس اور نہ دمشق بلکہ مسلمانوؔ ں کے لشکر میں اترے گا جہاں حضرت مہدی ہوں گے۔ اورپھرفرمایا کہ جس وقت وہ اُترے گا اُس وقت اس کی زرد پوشاک ہوگی۔یعنی زردرنگ کے دو کپڑے اُس نے پہنے ہوئے ہوں گے (یہ اس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت اُس کی صحت کی حالت اچھی نہیں ہوگی ) اور دونوں ہتھیلی اُس کی دو فرشتوں کے بازوؤں پرہوں گی۔مگر بخاری کی ایک دوسری حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن مریم کو بجائے دوفرشتوں کے دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر طواف کرتے دیکھا۔ پس اِس حدیث سے نہایت صفائی سے یہ بات کھلتی ہے کہ دمشقی حدیث میں جو دو فرشتے لکھے ہیں وہ دراصل وہی دو آدمی ہیں کہ دوسری حدیث میں بیان کئے گئے ہیں اور اُن کے کندھوں پر ہاتھ رکھنے سے مطلب یہ ہے کہ وہ مسیح کے مددگاراور انصار ہوجائیں گے۔ اور پھر فرمایا کہ جس وقت مسیح اپنا سر جھکائے گا تو اُس کے پسینہ کے قطرات مترشح ہوں گے اور جب اُوپر کو اُٹھائے گا تو بالوں سے قطرے پسینہ کے چاندی کے دانوں کی طرح گریں گے جیسے موتی ہوتے ہیں اور کسی کافر کے لئے ممکن نہیں ہو گا کہ اُن کے دم کی ہو اپاکر جیتارہے بلکہ فی الفور مرجائے گا اورؔ دم اُن کا اُن کی حّدِ نظر تک پہنچے گا۔پھر حضرت ابن مریم دجّال کی تلاش میں لگیں گے اور لُدّ کے دروازہ پر جو بیت المقدس کے دیہات میں سے ایک گاؤں ہے اس کو جاپکڑیں گے اور قتل کر ڈالیں گے۔تمّت ترجمۃ الحدیث۔ یہ وہ حدیث ہے جو صحیح مسلم میں امام مسلم صاحب نے لکھی ہے جس کو ضعیف سمجھ کر رئیس المحدثین