اپناقدم رکھتے ہی اس موثر طریق کو ایسی مضبوطی اور استحکام سے رواج دیا ہے کہ اُس کی نظیر دوسرے مذہبوں میں ہر گز نہیں پائی جاتی۔ کون اس جماعت کثیر کا دوسری جگہ وجود دکھلا سکتا ہے جو تعداد میں دس ہزار سے بھی زیادہ بڑھ گئی تھی اور کمال اعتقاد اور انکسار ااور جانفشانی اور پوری محویّت سے سچائی کے حاصل کرنے اور راستی کے سیکھنے کے لئے آستانہ نبوی پر دن رات پڑی رہتی تھی بے شک حضرت موسیٰ کو بھی ایک جماعت ملی تھی مگر وہ کیسی اور کس قدر سر کش اور متمرّد اور روحانی صحبت اور صدق قدم سے دُور اورمہجور رہنے والی تھی اس بات کو بائبل کے پڑھنے والے پڑتی ہے آج تک چل سکتا۔ افسوس ہزار افسوس اس زمانہ کے اکثر مولویوں پر کہ آتش حسد اندر ہی اندراُن کو کھا گئی ہے۔ لوگوں کو تو ایمانی خصائل اور برادرانہ برتاو ¿ اور باہم نیک ظنّی کا ہمیشہ سبق دیتے ہیں اور منبروں پر چڑھ کراس بارے میں کلام الٰہی کی آیات سُناتے ہیں مگر آپ ان حکموں کو چُھوتے بھی نہیں۔ اے حضرت خدا تعالیٰ آپ کی آنکھ کھولے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ خدا تعالیٰ اپنے کسی ملہم بندہ کو کسی مصلحت کی وجہ سے ایک کام کرنے سے روک دیوے اور شاید اس روک کا دوسرا سبب یہ بھی ہوگاکہ تا آپ کی اندرونی خاصیّتوں کا امتحان ہو جائے اور جو لوگ آپ کے ہمرنگ اور آپ کے ہم ظرف ہیں اُن کے مواد خبیثہ بھی اس تقریب سے باہر نکل آویں۔ رہی یہ بات کہ آپکی عالمانہ عظمت اور ہیبت سے میں ڈر گیا تو اس کے جواب میں آپ یقینا سمجھیں کہ جو لوگ تاریکی اور نفسانی ظلمتوں میں مبتلا ہیں اگر وہ دنیا کے تمام فلسفہ اور طبعی کے جامع بھی ہوں تب بھی میری نگاہ میں ایک مرے ہوئے کیڑے سے ان کی زیادہ وُقعت نہیں۔ مگر آپ اُس مرتبہ علم کے آدمی بھی نہیں۔ صرف پورانے خیالات کے ایک خشک مُلّا ہیں اور وہی کمینگی جو تاریک خیال مُلّاو ¿ں میں ہوا کرتی ہے آپ کے اندر موجود ہے۔ اور آپ کو یاد رہے کہ اکثر میرے پاس ایسے محقق اور جامع فنون اور معلومات وسیع رکھنے والے آتے اور اسرار معارف سے فائدہ اُٹھاتے رہتے ہیں کہ اگر میں اُن کے مقابل پر آپکو طفل مکتب بھی کہوں تو اسقدر کلمہ سے بھی آپکو وہ عزّت دُوں گا جس کے آپ مستحق نہیں۔ اب بھی اگر آپ کی قوت واہمہ فرو ہونے میں نہ آوے اور بد ظنی کے جذبات کم نہ ہوں تو پھر میں