تکلّمواالنّاس علٰی قدرعقولہم کے دیا گیا ورنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی کشفی امر کو جب تک خدائے تعالیٰ خاصؔ طور پر ظاہر نہ کرے کبھی ظاہری معنوں تک محدود نہیں سمجھتے تھے جیسا کہ صدہا احادیث میں یہ طریق اورعادت نبویہ مقدسہ ثابت ہو رہی ہے)۔
پھر راوی کہتا ہے کہ ہم نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! دجّال کس قدر جلد زمین پر چلے گا اور اس کے جلد چلنے کی کیفیت کیا ہے تو آپ نے فرمایا کہ اُس مینہ کی طرح تیز چلے گا جس کے پیچھے ہوا ہو یعنی ایک دم میں ہزاروں کوس پھر جائے گااور ایک قوم پر گذر کر اُن کو اپنے دین کی طرف دعوت کرے گا اور وہ اُس پر ایمان لے آویں گے تب وہ بادل کو حکم کرے گا تا اُن کے لئے مینہ برساوے اور زمین کو حکم کرے گا تا اُن کے لئے کھیتیاں اُگاوے۔ (یہ سارے استعارات ہیں ہوشیار رہو دھوکا نہ کھانا ) پھر فرمایا کہ ایسا ہو گا کہ وقت پر بارشیں ہونے کی وجہ سے جو مویشی صبح چرنے کے لئے جاویں گے وہ شام کو ایسے تازہ و توانا ہو کر آئیں گے کہ بوجہ فربہی کوہان اُن کی دراز ہو جائیں گی اور پستان دُودھ سے بھر جائیں گے اوربباعث بہت سیر شکم ہونے کے کوکیں کھچی ہوئی ہوں گی۔
پھر دجّال ایک اور قوم کی طرف جائے گا اوراپنی اُلوہیت کی طرف اُن کو دعوتؔ کرے گا پھر وہ لوگ اُس کی دعوت کو قبول نہیں کریں گے اور اُس پر ایمان نہیں لاویں گے۔سو دجّال اُن سے بارش کو روک لے گا اورزمین کو کھیتی نکالنے سے بند کر دے گا اور وہ قحط کی بلا میں مبتلا ہوجائیں گے اور کھانے پینے کے لئے اُن کے پاس کچھ نہ رہے گا۔پھر دجّال ایک ویرانہ پر گذرے گا اور اس کو کہے گا کہ اپنے خزانوں کو نکال۔ تب فی الفور سب خزانے اُس ویرانہ سے نکل کر اُس کے پیچھے پیچھے ہو لیں گے اورایسے اُس کے پیچھے چلیں گے جیسے شہد کی مکھیاں اُس بڑی مکھی کے پیچھے چلتی ہیں جو اُن کی سردار ہوتی ہے۔پھر دجّال ایک شخص کو بلا ئے گا جو اپنی جوانی میں بھراہواہوگا اور اُس کو تلوار سے قتل کردے گا۔اور اُس کے دوٹکڑے کر کے تِیر کی مارپر علیحدہ علیحدہ پھینک دے گا پھر اس کی لاش کو بُلائے گا