کہ یا رسول اللہ کس مّدت تک دجّال دنیا میں ٹھہرے گا تو آپ نے فرمایا کہ چالیس دن۔ لیکن شَرح السنّۃ میں اسما ء بنت یزید سے روایت ہے کہ چالیس برس ٹھہرے گا مگر درحقیقت اِن روایات میں کسی قسم کا اختلاف یا تناقض نہیں سمجھنا چاہیئے اور اس با ت کا علم حوالہ بخدا کرنا چاہیئے کہ اِن چالیس دن یا چالیس برس سے کیا مراد ہے۔
اورمسلم کی حدیث کا بقیہ ترجمہ یہ ہے کہ دجّال کا ایک دن برس کے برابر ہو گا اور ایک دن ایک مہینے کے برابر اور ایک دن ہفتہ کے برابر باقی دن معمولی دنوں کے موافق (یہ سب استعارات و کنایات ہیں ) پھر راوی کہتا ہے کہ ہم نے عرض کی کہ کیا اُن لمبے * دنو ں میں ایک دن کی نماز پڑھنا کافی ہوگا توآپ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ نماز کے وقتوں کے مقداؔ ر پر اندازہ کرلیا کرنا (واضح ہو کہ یہ بیان پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا علیٰ سبیل الاحتمال ہے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بلحا ظ وسعت قدرت الٰہی کشفی امر کو مطابق سوال سائل کے ظاہر پر محمول کر کے جواب دے دیاہے ورنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حدیث عائشہ رضی اللہ عنھا میں جو بخاری کے صفحہ ۵۵۱ میں درج ہے صاف طور پر تصریح فرما چکے ہیں کہ مکاشفات کی تعبیر کبھی تو ظاہر پر اورکبھی غیر ظاہر پر وقوع میں آ جایا کرتی ہے اور درحقیقت یہی مذہب تمام انبیا واولیاء کا آج تک چلا آیا ہے سو یہ جواب جو نمازوں کا اندازہ کرلیا کرنا آپ نے فرمایا یہ سائل کے فہم اور استعداد اور رجوع خیال کے موافق برطبق
* حاشیہ۔ لمبے دنوں سے مراد تکلیف اور مصیبت کے دن بھی ہوتے ہیں بعض مصیبتیں ایسی دردؔ ناک ہوتی ہیں کہ ایک دن ایک برس کے برابر دکھائی دیتا ہے اور بعض مصیبتیں ایسی کہ ایک دن ایک مہینہ کی مانند معلوم ہوتاہے اور بعض مصیبتوں میں ایک دن ایک ہفتہ جیسا لمبا سمجھا جاتا ہے۔ پھر رفتہ رفتہ صبر پیدا ہوجانے سے وہی لمبے دن معمولی دن دکھائی دینے لگتے ہیں اور صبر کرنے والوں کے لئے آخر وہ گھٹائے جاتے ہیں غرض یہ ایک استعارہ ہے اس پر غور کرو کہ درحقیقت یہ لمبے دن ایسے ہی ہیں جیسے آپ نے فرمایا تھا کہ میری بیویوں میں سے پہلے وہ فوت ہو گی جس کے لمبے ہاتھ ہیں۔ منہ