اور کہا کہ میں چلنے کو تھی مگر تیرے لئے رہ گئی۔اُنہیں دنوں میں میَں نے ایک نہایت خوبصورت مرددیکھا اور میں نے اُسے کہا کہ تم ایک عجیب خوبصورت ہو تب اُس نے اشارہ سے میرؔ ے پرظاہر کیا کہ میں تیرا بخت بیدار ہوں اور میرے اس سوال کے جواب میں کہ تُو عجیب خوبصورت آدمی ہے اُس نے یہ جواب دیا کہ ہاں میں درشنی آدمی ہوں اور ابھی تھو ڑے دن گذرے ہیں کہ ایک مدقوق اور قریب الموت انسان مجھے دکھائی دیا اور اس نے ظاہر کیا کہ میرا نام دین محمد ہے اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ دینِ محمدی ہے جو مجسم ہو کر نظر آیا ہے اور میں نے اس کو تسلی دی کہ تو میرے ہاتھ سے شفا پا جا ئے گا۔علیٰ ہذاالقیاس کبھی اعمال نیک یا بد بھی اشکال جسمانیہ میں نظر آجا یا کر تے ہیں اور قبر میں اعمال کا متشکل ہو کر نظر آنا عام عقیدہ مسلمانوں کا ہے اِسی بنا پر آنحضرت صلعم خوابوں کی تعبیر میں اشخاص مرئیہ کے ناموں سے اشتقاق خیر یا شرکا کر لیا کرتے تھے۔ اب پھر ہم دمشقی حدیث کے بقیہ ترجمہ کی طرف رجوع کرکے لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلعم نے فرمایا کہ جو شخص تم میں سے اس کو یعنی دجّال کو پاوے تو چاہیئے کہ اس کے سامنے سورۂ کہف کی پہلی آیتیں پڑھے کہ اِس میں اُس کے فتنہ سے امان ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جہاں تک ہو سکے اصحاب کہف کی طرح استقامت اختیارکرے کیونکہ ان آیتوں میں اُن لوگوں کی استقامت کا ہی ذکر ہے جو ایک مشرک بادشاہ کے ظلم سے ڈر کر ایک غار میں چھپ گئے تھے (اے میرے دوستو!اب تم بھی ان آیات کو پڑھا کرو کہ بہت سے دجّال تمہارے سامنے ہیں ) پھرؔ فرمایا رسول نبی اُمّی نے فداءً لَہٗ اَبی وَاُمِّیْ کہ دجّال اس راہ سے نکلنے والا ہے کہ جو شام اور عراق کے درمیان واقعہ ہے۔اور دائیں بائیں فساد ڈالے گا ( یہ بھی ایک استعارہ ہے جیساکہ مکاشفات میں عام طور پر استعارات وکنایات ہؤاکرتے ہیں ) پھر بعد اس کے فرمایا کہ اے اللہ کے بندو!تم نے اُس وقت ثابت رہنا یعنی جیسے اصحاب الکہف ثابت قدم رہے تھے۔ راوی کہتا ہے