اپنے ظہور کے وقت اپنے فتنہ اندازی کے کام کے گرد پھرے گا اور اُس کا انجام پذیر ہوجانا چاہے گا۔اب کہاں ہیں وہ حضرات مولوی صاحبان جو ان حدیثوں کے الفاظ کو حقیقت پر حمل کرنا چاہتے ہیں اور اُن کے معانی کو ظاہر عبارت سے پھیرنا کفر و الحاد سمجھتے ہیں ذرہؔ اپنے گریبان میں مُنہ ڈال کر دیکھیں کہ سلف صالح نے اس حدیث کے معنے کرنے کے وقت مسیح دجّال کے طواف کرنے کو ایک خواب کا معاملہ سمجھ کر کیسی اس کی تعبیر کر دی ہے جو ظاہر الفاظ سے بہت بعید ہے پھر جس حالت میں لا چار ہو کر اُن مکاشفات کی ایک جزو کی تعبیر کی گئی تو پھر کیا وجہ کہ با وجود مو جود ہونے قرائن قویہ کے دوسری جزوؔ ں کی تعبیر نہ کی جائے۔ واضح ہو کہ جس طرح ہمارے علماء نے مسیح دجّال کے طواف کو ایک کشفی امر سمجھ کر اُس کی ایک روحانی تعبیر کردی ہے ایسا ہی خود جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی مقامات میں ظاہر فرمادیا کہ جو کچھ میرے پر کشفی طور پر کھلتا ہے جب تک منجانب اللہ قطعی اور یقینی معنے اس کے معلوم نہ ہوں میں ظاہر پر حمل نہیں کر سکتا۔ مثلاً اس حدیث کو دیکھو جو صحیح بخاری کے صفحہ۵۵۱ میں درج ہے اور وہ یہ ہے حدثنا معلی قال حدثنا