اب اس تمام حدیث پرنظرِغور ڈال کر معلوم ہوگا کہ جو کچھ د مشقی حدیث میں مسلم نے بیان کیا ہے اکثر باتیں اس کی بطور اختصار اس حدیث میں درج ہیں اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف اور صریح طور پر اس حدیث میں بیان فر ما دیا ہے کہ یہ میرا ایک مکاشفہ یا ایک خواب ہے پس اس جگہ سے یقینی اور قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ وہ دمشق والی حدیث جو پہلے ہم لکھ آئے ہیں درحقیقت وہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خواب ہی ؔ ہے۔ جیسا کہ اُس میں یہ اشارہ بھی کَاَ نِّی کا لفظ بیان کر کے کیا گیا ہے اور یہ حدیث جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صاف اور صریح طور پر فرماتے ہیں کہ میرا یہ ایک کشف یا خواب ہے اس کو بخاری اور مسلم دو نوں نے اپنی صحیحین میں لکھا ہے اور علماء نے اس جگہ ایک اشکال پیش کرکے ایسے لطیف طور پر اس کا جواب دیا ہے جو ہمارے دعویٰ کا ایسا مؤید ہے کہ گویا ہم میں اور ہمارے مخالفین میں فیصلہ کر نے والا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس حدیث میں جو متفق علیہ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نے مسیح ابن مریم کو خانہ کعبہ کاطواف کرتے دیکھا اور پھر بعد اس کے فر ما تے ہیں کہ ایسا ہی میں نے مسیح دجّال کو بھی خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا۔اس بیان سے یہ لازم آتا ہے کہ مسیح ابن مریم اور مسیح دجّال کا مدعا و مقصد ایک ہی ہو اور وہ دونوں صراط مستقیم پر چلنے والے اور اسلام کے سچے تابع ہوں حالانکہ دوسری حدیثوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دجّال خدائی کا دعوٰی کرے گا پھر اس کو خانہ کعبہ کے طواف سے کیا کام ہے۔اِس کا علماء نے یہ جواب دیا ہے کہ ایسے الفاظ و کلمات کو ظاہر پر حمل کرنا بڑی غلطی ہے یہ تو درحقیقت مکاشفات اور خوابوں کے پیرایہؔ میں بیانات ہیں جن کی تعبیر و تا ویل کر نی چاہیئے جیسا کہ عام طور پر خوابوں کی تعبیر کی جاتی ہے سو اس کی تعبیر یہ ہے کہ طواف لُغت میں گرد پھر نے کو کہتے ہیں اور اس میں شک نہیں کہ جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے نزول کے وقت میں اشاعت دین کے کام کے گرد پھریں گے اور اس کا انجام پذیر ہو جانا چاہیں گے ایسا ہی مسیح د جال بھی