وھیب عن ھشام بن عروۃ عن ابیہ عن عائشۃ ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال لھا اریتک فی المنام مرتین اریٰ انک فی سرقۃ من حریر و یقول ھٰذہ امرأتک فاکشف عنہا فاذا ھی انت فاقول ان یک ھذا من عند اللّٰہ یمضہ یعنی حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اے عائشہ تُو خواب میں مجھے دودفعہ دکھائی گئی اور میں نے تجھے ایک ریشم کے ٹکڑے پر دیکھا اور کہا گیا کہ یہ تیری عورت ہے اور میں نے اس کو کھو لا تو کیا دیکھتا ہوں کہ تُو ہی ہے اور میں نے کہا کہؔ اگر خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہی تعبیر ہے جو میں نے سمجھی ہے تو ہو رہے گی یعنی خوابوں اور مکاشفات کی تعبیر ضرور نہیں کہ ظاہر پر ہی واقعہ ہو کبھی تو ظاہر پر ہی واقعہ ہو جا تی ہے اور کبھی غیر ظاہر پر وقوع میں آتی ہے سو اس جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب کی سچائی میں شک نہیں کیا کیونکہ نبی کی خواب تو ایک قسم کی وحی ہوتی ہے بلکہ اُس کی طرز وقوع میں تردّد بیان کیا ہے کہ خدا جانے اپنی ظاہری صورت کے لحاظ سے وقوع میں آوے یا اُس کی اَور کوئی تعبیر پیدا ہو اور اس جگہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان سے یہ بھی بخوبی ثابت ہو گیا کہ جو وحی کشف یا خواب کے ذریعہ سے کسی نبی کو ہووے اس کی تعبیر کرنے میں غلطی بھی ہو سکتی ہے جیسا کہ اسی صفحہ۵۵۱ میں ایک دوسری حدیث میں ایسی غلطی کے بارے میں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما دیا ہے اور وہ یہ ہے قال ابو موسٰی عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم رأیت فی المنام انی اھاجر من مکّۃ الٰی ارض بھا نخل فذھب وھلی الٰی انھا الیمامۃ او ھجر فاذا ھی المدینۃ یثرب۔ یعنی ابو موسٰیؑ سے روایت ہے جو پیغمبرخدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے ایسی زمین کی طرف ہجرتؔ کرتا ہوں جس میں کھجوریں ہیں پس میرا وہم اس طرف گیا کہ وہ یمامہ یا ہجر ہو گا مگر آخر وہ مدینہ نکلا جس کو یثرب بھی کہتے ہیں۔ اس حدیث میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے