ذریً واسبغہ ضروعًا وامدہ۔ ثم یاتی القوم فیدعوھم فیردون علیہ قولہ فینصرف عنھم فیصبحون مملحین لیس بایدیھم شي ء من اموالھم ویمر بالخربۃ فیقول لھا اخرجی کنوزک فتتبعہ کنوزھا کیعاسیب النحلؔ ثم یدعو رجلًا ممتلءًا شبابًا فیضربہ بالسیف فیقطعہ جزلتین رمیۃ الغرص ثم یدعوہ فیقبل و یتھلل وجھہ یضحک فبینما ھو کذالک اذ بعث اللہ المسیح ابن مریم۔ فینزل عند المنارۃ البیضاء شرقی دمشق، بین مھزودتین واضعًا کفیہ علی اجنحۃ ملکین اذا طاطأ رأسہ قطر واذ ا رفعہ تحدّر منہ مثل جمان کاللؤلؤ فلا یحل لکافر یجد من ریح نفسہؔ الا مات ونفسہ ینتھی حیث ینتھی طرفہ فیطلبہ حتی یدرُکہ بباب لد فیقتلہ۔
من الناس بابن قطن واضعا یدیہ علٰی منکبی رجلین یطوف بالبیت فسألتُ من ھذا فقالوا ھذا المسیح الدجّال متّفق علیہ وفی روایۃ قال فی الدجا ل رجل احمر جسیم جعد الراس اعور العین الیمنٰی اقرب الناس بہ شبھًا ابن قطن۔
یعنی عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے آج کی رات خواب میں یا ازراہِ مکاشفہ اپنے تئیں کعبہ کے پاس دیکھااور وہاں مجھے ایک شخص گندم گُوں نظر آیا جس کا رنگ گندم گوں مردوں میں سے اول درجہ کا معلوم ہوتا تھا اور اس کے بال ایسے صاف معلوم ہوتے تھے کہ جیسے کنگھی کی ہوتی ہے اور اُن میں سے پانی ٹپکتا ہے اور میں نے دیکھا کہ وہشخص دو آدمیوں کے مونڈھوں پر تکیہ کر کے خانہ کعبہ کا طواف کر رہا ہے۔ پس میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے تو مجھے کہا گیا کہ یہ مسیح ابن مریم ہے پھر اُسی خواب میں ایک شخص پر میں گذرا جس کے بال مڑے ہوئے تھے اور دا ہنی آنکھ اُس کی کانی تھی گویا آنکھ اُس کی انگور ہے پُھولا ہوا بے نور اُن لوگوں سے بہت مشابہ تھا جو میں نے ابن قطن کے ساتھ دیکھے ہیں اوراس نے دونوں ہاتھ دو شخصوں کے مونڈھوں پر رکھے ہوئے تھے اور خانہ کعبہ کا طواف کر رہا تھا اور میں نے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ یہ مسیح دجا ل ہے۔