وحی پا کر نمونہ کے طور پر دنیا میں آتے رہے ہیں اور یہ دونوں قضئے باہم لازم ملزوم ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ کو ہمیشہ کے لیے اصلاحِ خلائق کی طرف توجہ ہے تو یہ بھی نہایت ضروری ہے کہ ایسے لوگ بھی ہمیشہ کی لئے آتے رہیں کہ جن کو خدا تعالیٰ نے اپنی خاص توجہ سے بینائی بخشی ہو اور اپنی مرضیات کی راہ پرثابت قدم کیا ہو۔ بلاشبہ یہ بات یقینی اور امور مسلّمہ میں سے ہے کہ یہ مہم عظیم اصلاح خلائق کی صرف کاغذوں کے گھوڑے دوڑانے سے روبراہ نہیں ہو سکتی۔ اسکے لئے اِ سی راہ پر قدم مارنا ضروری ہے جس پر قدیم سے خدا تعالیٰ کے پاک نبی مارتے رہے ہیں۔ اور اسلام نے تحریر کر کے لوگوں میںپھیلایا۔ ذیل میں معہ اس کے جواب کے لکھتا ہوں۔ قولہ میں نے اُن سے (یعنی اس عاجز سے بمقام علیگڑھ )کہا کہ کل جمعہ ہے وعظ فرمائیے۔ اس کا انہوں نے وعدہ بھی کیا مگر صبح کو رقعہ آیا کہ میں بذریعہ الہام وعظ کہنے سے منع کیا گیا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ بہ سبب عجز بیانی و خوف امتحانی انکار کر دیا۔ اقول مولوی صاحب کا یہ خیال بجُز بد گمانی کے جو سخت ممنوعات شرعیہ میں سے ہے اور نیک سرشت آدمیوں کا کام نہیں اور کوئی اصلیّت اور حقیقت نہیں رکھتا۔ اگر میں صرف علیگڑھ میں آکر خاص اسی موقعہ پر الہام کا مدعی بنتا توبےشک بد ظنّی کرنے کے لئے ایک وجہ ہو سکتی تھی اور بے شک خیال کیا جاسکتا تھاکہ میں مولوی صاحب کے علمی مرتبہ کی علوّ شان دیکھ کر اور اُن کے کمالات کی عظمت اور ہیبت سےمتاثر ہو کر گھبرا گیا اور عذر پیش کرنے اور ایک حیلہ تراشنے سے اپنا پیچھا چھڑایا لیکن میں تو اس دعوئے الہام کو علیگڑھ کے سفر سے چھ سات سال پہلے تمام ملک میں شائع کر چکا ہو ں اور براہین احمدیہ کے اکثر مقامات اس سے پُر ہیں۔ اگر میں تقریر کرنے سے عاجز ہوتا تو وہ کتابیں جو میری طرف سے تقریری طور پر عین مجلس میں اور ہزارہا موافقین اور مخالفین کے جلسہ میں قلمبند ہو کر شائع ہوئی ہیں جیسے ُسرمہ چشم آریہ وہ کیوں کر میری ایسی ضعیف قوت ناطقہ سے نکل سکتی تھیں اور کیوں کر میرا عالی شان سلسلہ زبانی تقریروں کا جس میں ہزاروں مختلف طبع اور استعداد آدمیوں کےساتھ ہمیشہ مغز خواری کرنی