اخترتک لنفسی شأنک عجیب واجرؔ ک قریب الارض والسمآء معک کما ھو معی جری اللہ فی حلل الانبیآء لا تخف انک انت الاعلٰی ینصرک اللہ فی مواطن ان یومی لفصل عظیم کتب اللہ لاغلبن انا ورسلی الاان حزب اللّٰہ ھم الغالبون۔ تُو میری مراد اور میرے ساتھ ہے میں نے تیری کرامت کادرخت ثابت اور مستحکم کردیا تُو میر ی درگاہ میں وجیہ ہے میں نے تجھے اپنے لئے چنا تیری شان عجیب اور تیرا اجر قریب ہے۔تیرے ساتھ زمین و آسمان ایسا ہے جیساکہ وہ میرے ساتھ ہے۔تُو خدا کا پہلوان ہے نبیوں کے حُلّوں میں۔ مت خوف کر کہ غلبہ تجھ کو ہے۔ خداکئی میدانوں میں تیری مدد کرے گا۔میرا دن بڑے فیصلہ کا دن ہے۔ میں نے لکھ چھوڑا ہے کہ ہمیشہ مَیں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے۔یاد رکھ کہ خدا کا ہی گروہ غالب رہا کرتا ہے۔ یہ وہ الہامات ہیں جو براہین احمدیہ میں صفحات مذکورہ بالا میں ہم لکھ چکے ہیں۔جو صراحتًا وکنایتًا اس عاجز کے مثیل موعود ہونے پردلالت کررہے ہیں۔ ہاں براہین میں اس بات کا الہامی طور پر کچھ فیصلہ نہیں کیا گیا کہ حضرت مسیح بن مریم کے نزول کے جو لوگ منتظر ہیں کہ وہی سچ مچ بہشت سے نکل کر فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے آسمان سے زمین پر اُتر آئیں گے اس کی اصل حقیقت کیا ہے بلکہ میں نے براہین میں جو کچھ مسیح بن مریم کے دوبارہ دنیا میں آنے کا ذکر لکھا ہے وہ ذکر صرف ایک مشہور عقیدہ کے لحاظ سے ہے جس کی طرف آج کل ہمارے مسلمان بھائیوں کے خیالات جھکے ہوئے ہیں۔سو اسی ظاہرؔ ی اعتقاد کے لحاظ سے میں نے براہین میں لکھ دیا تھا کہ میں صرف مثیل موعود ہوں۔اور میر ی خلافت صرف روحانی خلافت ہے لیکن جب مسیح آئے گا تو اس کی ظاہری اور جسمانی دونوں طور پر خلافت ہو گی یہ بیان جو براہین میں درج ہو چکا ہے صرف اُس سرسری پیروی کی وجہ سے ہے جو ملہم کو قبل از انکشاف اصل حقیقت اپنے نبی کے آثار مرویہ کے لحاظ سے