لازم ہے کیونکہ جو لوگ خدائے تعالیٰ سے الہام پاتے ہیں وہ بغیر بُلائے نہیں بولتے اور بغیر سمجھائے نہیں سمجھتے اور بغیر فرمائے کوئی دعویٰ نہیں کرتے اور اپنی طرف سے کسی قسم کی دلیری نہیں کرسکتے اسی وجہ سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب تک خدائے تعالیٰ کی طرف سے بعض عبادات کے اداکرنے کے بارہ میں وحی نازل نہیں ہوتی تھی تب تک اہل کتاب کی سُنن دینیّہ پر قدم مارنابہتر جانتے تھے اور بر وقت نزول وحی اور دریافت اصل حقیقت کے اس کو چھوڑ دیتے تھے سو اسی لحاظ سے حضرت مسیح بن مریم کی نسبت اپنی طرف سے براہین میں کوئی بحث نہیں کی گئی تھی اب جو خدائے تعالیٰ نے حقیقت امر کو اس عاجز پر ظاہر فرمایا تو عام طور پر اس کا اعلان از بس ضروری تھا لیکن مجھے اگر کچھ افسوس ہے تو اؔ س زمانہ کے اُن مولوی صاحبان پر ہے کہ جنہوں نے قبل اس کے جو میر ی تحریر پر غور اور خوض کی نگاہ کریں ردّ لکھنے شروع کردئے ہیں مصنّفین اور محققین خوب سمجھتے ہیں کہ جس قدر حال کے بعض مولوی صاحبوں نے مجھے اپنی دیرینہ رائے کا مخالف ٹھہرایا ہے غور کرنے سے معلوم ہو گا کہ درحقیقت اتنی بڑی مخالفت نہیں ہے جس پر اتنا شور مچایا گیا میں نے صرف مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور میرا یہ بھی دعویٰ نہیں کہ صرف مثیل ہونا میرے پر ہی ختم ہو گیا ہے بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ آئندہ زمانوں میں میرے جیسے اور دس ہزار بھی مثیل مسیح آجائیں ہاں اِس زمانہ کے لئے میں مثیل مسیح ہوں اور دُوسرے کی انتظار بے سُود ہے اور یہ بھی ظاہر رہے کہ یہ کچھ میرا ہی خیال نہیں کہ مثیل مسیح بہت ہو سکتے ہیں بلکہ احادیث نبویہ کا بھی یہی منشاء پایا جاتا ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ دنیا کے اخیر تک قریب تیس کے دجّال پیداہوں گے اب ظاہر ہے کہ جب تیس دجّال کا آنا ضروری ہے تو بحکم لِکُلِّ دجّال عیسٰیتیس مسیح بھی آنے چاہئیں پس اس بیا ن کے رُو سے ممکن اور بالکل ممکن ہے کہ کسی زماؔ نہ میں کوئی ایسا مسیح بھی آجائے جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آسکیں کیونکہ یہ عاجز اس دنیا کی حکومت اور بادشاہت